بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رمضان 1442ھ 22 اپریل 2021 ء

دارالافتاء

 

شیر کا گوشت کھانے کا حکم


سوال

شیر کا گوشت کھا سکتے ہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں شیر کا گوشت کھانا حرام ہے؛ کیوں کہ   وہ درندہ ہے اور درندوں کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔

صحيح البخاري (7 / 95):

عن الزهري: «نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع».

ترجمہ :  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کچلی والے درندوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۔

الفتاوى الهندية (5 / 289):

"وما له دم سائل نوعان: مستأنس ومتوحش، أما المستأنس من البهائم فنحو الإبل والبقر والغنم يحل بالإجماع، وأما المتوحش نحو الظباء وبقر الوحش وحمر الوحش وإبل الوحش فحلال بإجماع المسلمين، وأما المستأنس من السباع وهو الكلب والفهد والسنور والأهلي فلا يحل، وكذلك المتوحش فمنها المسمى بسباع الوحش والطير، وهو كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير، فذو الناب من سباع الوحش مثل الأسد والذئب والضبع والنمر والفهد والثعلب والسنور البري والسنجاب والسمور والدلق والدب والقرد ونحوها فلا خلاف في هذه الجملة إلا في الضبع فإنه حلال عند الشافعي - رحمه الله تعالى -."

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144204200926

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں