بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اشہد ان محمداً رسول اللہ کے جواب میں درود شریف پڑھنا


سوال

 اگر کوئ شخص اذان یا اقامت میں  "أشهد أن محمّدًارسول اللّٰه"  کے جواب میں "صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم"  کہے تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

 حدیث شریف میں نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو جواباً وہی کلمات کہو جو مؤذن کہہ رہا ہے، صرف ’’حیعلتین‘‘  (حي على الصلاةاور حي على الفلاح) کے جواب میں  فرمایا کہ ’’لاحول ولا قوة إلا باللّٰه‘‘ کہو، جس سے  واضح ہوتا ہے کہ  ’’أشهد أن محمّدًارسول اللّٰه ‘‘ کے جواب میں درود شریف پڑھنا مسنون نہیں ہے؛  بلکہ صرف اسی کلمہ کو دہرانا مسنون ہے، چناں چہ فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ اذان اور اقامت کا جواب دیتے وقت  ’’أشهد أن محمّدًارسول اللّٰه  ‘‘کے جواب میں  یہی کلمات دہرائے، اس موقع پر درود شریف نہ پڑھے، ہاں! اذان ختم ہونے کے بعد درود شریف پڑھنا، پھر اس کے بعد دعا وسیلہ پڑھنا حدیث کی کتابوں سے ثابت ہے اور یہی مسنون طریقہ ہے، اور آپ  ﷺ  کا نامِ مبارک سن پر درود شریف پڑھنے کا حکم اس سے بطریقہ سنت پورا ہوجائے گا۔ بہرحال اگر کسی نے اذان یا اقامت کے جواب میں’’أشهد أن محمّدًارسول اللّٰه  ‘‘کے جواب میں یہ کلمات دہرا کر یا یہ کلمات کہے بغیر درود شریف پڑھ لیا تو اسے ناجائز نہیں کہا جائے گا، البتہ سنت طریقہ یہ نہیں ہے۔

صحيح مسلم (1/ 289):
" عن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب، عن أبيه، عن جده عمر بن الخطاب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا قال المؤذن: الله أكبر الله أكبر، فقال أحدكم: الله أكبر الله أكبر، ثم قال: أشهد أن لا إله إلا الله، قال: أشهد أن لا إله إلا الله، ثم قال: أشهد أن محمداً رسول الله قال: أشهد أن محمداً رسول الله، ثم قال: حي على الصلاة، قال: لا حول ولا قوة إلا بالله، ثم قال: حي على الفلاح، قال: لاحول ولا قوة إلا بالله، ثم قال: الله أكبر الله أكبر، قال: الله أكبر الله أكبر، ثم قال: لا إله إلا الله، قال: لا إله إلا الله من قلبه دخل الجنة ".

   فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200901

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں