بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شاہ حضرات کا اپنے نام کے ساتھ سید لکھنے کا حکم


سوال

  کیا شاہ برادری جن کو لوگ فقیر سے بھی تعبیر کرتے ہیں ،ان کا نسب سادات سے ملتا ہے ، کیا یہ اپنے نام کے ساتھ  سید لکھ سکتے ہیں؟ اس لیے  کہ بہت سارے کبار علماء جیسے علامہ انور شاہ کشمیری ، علامہ  عطاء اللہ شاہ بخاری یہ سب شاہ ہیں اور اپنے نام کے آگے سید بھی لکھتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی شخص کو جب تک یقینی طور پر اپنا  سید ہونا معلوم نہ ہو، تب تک  اس شخص کا اپنے نام کے ساتھ سید لکھنا درست نہیں ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں جن شاہ حضرات کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان کا نسب نبی کریم ﷺ سے ملتا ہے ان کے لیے اپنے نام کے ساتھ سید لکھنا درست ہے، لیکن جن کو یقینی طور پر معلوم نہیں ہے، ان کے لیے اپنے نام کے ساتھ  سید لکھنا درست نہیں ہے۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشكاۃالمصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (لا ترغبوا) : أي: ‌لا ‌تعرضوا (‌عن آبائكم) : أي: عن الانتماء إليهم (فمن رغب عن أبيه) : أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر) : أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) : وجهان، أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام. قال الطيبي: ومعنى قوله: فالجنة عليه حرام على الأول ظاهر، وعلى الثاني تغليظ."

(باب اللعان، الرقم:3315، ص:2170، ج:5، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503100048

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں