بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شافعی مقتدی قرآن دیکھ کر حنفی امام کو لقمہ دے


سوال

اگر تراویح کی نماز میں امام کے پیچھے مقتدیوں میں سے کوئی ایسا شخص جو مسلک شافعی سے تعلق رکھتا ہو، اور وہ قرآن دیکھ کر سن رہا ہو، امام صاحب کو سامع کے غلطی نہ بتانے پر امام کو لقمہ دے دے تو کیا اس سے نماز باطل ہوجائے گی، جب کہ امام صاحب حنفی ہیں اور بنا مصحف کے حفظ قرآن پڑھ رہے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں شافعی المسلک اگر نماز میں دیکھ کر قرآن سن رہا ہو اور حنفی المسلک امام کو لقمہ دے تو اس کا لقمہ لینے سے نماز فاسد ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 591):
"(قوله: وكذا كل مفسد في رأي مقتد) أشار إلى أن الحدث ليس بقيد؛ فلو قال المصنف كما في النهر: ولو ظهر أن بإمامه ما يمنع صحة الصلاة لكان أولى، ليشمل ما لو أخل بشرط أو ركن، وإلى أن العبرة برأي المقتدي حتى لو علم من إمامه ما يعتقد أنه مانع والإمام خلافه أعاد، وفي عكسه لا إذا كان الإمام لايعلم ذلك؛ ولو اقتدى بآخر فإذا قطرة دم وكل منهما يزعم أنها من صاحبه أعاد المقتدي لفساد صلاته على كل حال كما في النهر عن البزازية". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200515

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں