بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

شادی سے بیوہ کا حق وراثت ختم نہیں ہوتا


سوال

شوہر کا انتقال ہوا ہے ، انہوں نے ورثاءمیں بیوہ ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہے ، وراثت کی تقسیم سے قبل بیوہ نےدوسری شادی کرلی ،کیا وہ اپنے پہلے وفات شدہ شوہر کی وراثت میں حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ بیوہ عورت جب عدت کے بعددوسرے شخص سے نکاح کرلےتو اس کی وجہ سےبیوہ اپنے مرحوم شوہرکی وراثت  سے محروم نہیں ہوتی ، کیوں کہ نکاح ِ جدیدموانع ِ ارث میں سے نہیں ہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیوہ عورت جس نے تقسیم وراثت سے قبل شادی کی ہے ،اپنے مرحوم شوہرکی وراثت میں حصہ دار ہوگی،اُسے محروم کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔

السراجی فی المیراث میں ہے:

" المانع من الإرث أربعة : الرق ... و القتل واختلاف الدينيين واختلاف الدارين." 

(السراجي في الميراث، فصل في الموانع ، ص : 5ط: الميزان ، لاهور)

 فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144310100868

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں