بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ لڑکی کو غیر مرد کے ساتھ بھاگنے کی وجہ سے شوہر کا ساتھ نہ رکھنا


سوال

زید کی اہلیہ  نے ایک بہت بڑی غلطی کر دی ہے ،وہ صبح کے وقت کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی ،پھر لڑکی کے گھر والوں نے اس کے شوہر کے ساتھ مل کر اس کو دیر رات گھر واپس لے آئے۔اب وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے ۔اور وہ توبہ کے ساتھ اپنے شوہر سے معافی بھی مانگ رہی ہے،  مگر اس کا شوہر اسے اپنے ساتھ رکھنا نہیں چاہتا ہے ۔ اب اس کے گھر والے کیا کریں ؟ بہترمشورہ عنایت فرمائیں،واضح رہے کہ ان کی دو اولاد بھی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی اپنے اس عمل پر شرمندہ ہے اور سچے دل سے توبہ استغفار بھی کر رہی ہے تو شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے ا س عمل کو معاف کرتے ہوئے اور بچوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے دوبارہ اپنا گھر بسالے،کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں،نیز قرآن کریم میں ایسے شخص کی مغفرت کا اعلان کیا گیا ہے جو دوسروں کی غلطی کو معاف کریں اور ان سے درگزر کا معاملہ کریں۔

تاہم اگر شوہر دوبارہ گھر بسانے پر راضی نہیں ہےتو اس پر گھر بسانے کے لیے زور زبردستی نہیں کی جاسکتی ، کچھ مدت کے لیے اس معاملہ کو چھوڑدیں ، امید ہے جب شوہر کادل نرم ہوجائے گا تووہ اسے اپنے ساتھ رکھنے پر راضی بھی ہوجائےگا۔

قرآن مجید میں ہے:

" وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔"(التغابن:14)

ترجمہ:"اور اگر تم معاف کردو اور درگذر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ (تمہارے گناہوں کا) بخشنے والا ہے ( اور تمہارے حال پر) رحم کرنے والا ہے۔ "(بيان القرآن)

حدیث شریف میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل بني آدم خطاء وخير الخطائين ‌التوابون» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي."

(کتاب الدعوات، با ب الاستغفار والتوبۃ،الفصل الثانی، ج:1،ص:207،ط:رحمانیہ)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام بنی آدم خطا کار ہیں(یعنی انبیاء کرام کےعلاوہ اس لیے کہ وہ خطا سے معصوم ہیں)اور بہترین خطا کرنے والے توبہ کرنے والے ہیں ۔

(مظاہرِ حق ، ج:2، ص:623، ط:مکتبۃ العلم)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144308100875

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں