بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

شادی پر ملنے والے زیورات پر زکاۃ کا حکم


سوال

مجھے شادی کے  بعد  میری والدہ مرحومہ  کے زیورات دیے گئے  تھے جو میں نے نہیں خریدے، اور کچھ زیور سسرال سے ملے جو میرے شوہر کے مال سے  نہیں خریدے گئے، یہ زیور میرے  استعمال  میں  ہیں۔ میرا کوئی ذریعہ آمدنی  نہیں ہے۔ میرے شوہر گھر کا خرچ چلاتے  ہیں۔ کیا   نصاب کے حساب سے  مجھ  پر زکوٰۃ  لازم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی شخص پر زکوٰۃ  واجب ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ  اُس شخص  کی ملکیت میں  ضرورت سے زائد  اتنا مال موجود  ہو جو نصاب تک پہنچتا ہو، اور اُس  مال پر سال گزر چکا ہو۔

چنانچہ  صورتِ مسئولہ میں  جو زیورات سائلہ کو اُن کی والدہ مرحومہ نے دیے تھے وہ اُن کی ملکیت شمار ہوں گے، لہٰذا اگر اُن کی موجودہ  قیمت نصاب کو پہنچتی ہے اور  اُن پر سال گزر چکا ہے تو سائلہ کے ذمہ اُن زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ  جو زیورات سائلہ کو اُن کے سسرال کی طرف سے ملے تھے، ان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر  زیورات دیتے وقت  سسرال والوں نے اس بات  کی صراحت کی تھی کہ یہ  بطورِ عاریت یعنی صرف  استعمال کرنے کے لیے ہیں  تو  پھر یہ  زیورات  سسرال  والوں کی ملکیت ہوں گے اور سائلہ پر ان  کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔  اور اگرسسرال والوں نےہبہ (گفٹ)  اور  مالک بناکر دینے کی صراحت کردی تھی تو پھر اُن زیورات  کی مالکہ سائلہ ہوگی،لہٰذا    اگر اُن کی موجودہ  قیمت نصاب کو پہنچتی ہے اور  اُن پر سال گزر چکا ہے تو سائلہ کے ذمہ اُن زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔

اور اگر   سسرال والوں نے زیورات دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں  کی تھی   تو پھر  سسرال والوں  کے خاندان کے عُرف کا اعتبار ہوگا،اگر  ان کا عرف و رواج   بطورِ عاریت دینے کا ہے تو  ایسی صورت میں وہ زیورات سسرال والوں  ہی  کی ملکیت ہوں گے اور سائلہ پر اُن کی زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، لیکن   اگر ان کا عرف و رواج بطورِ ملک دینے کا ہے  یا ان کا کوئی رواج نہیں ہے تو ان دونوں صورتوں میں زیورات کی مالکہ سائلہ  ہوگی ، لہٰذا اس صورت میں بھی  اگر اُن زیورات  کی موجودہ  قیمت نصاب کو پہنچتی ہے اور  اُن پر سال گزر چکا ہے تو سائلہ کے ذمہ اُن زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔ 

البتہ اگر شوہر اپنے مال سے بیوی کی اجازت سے بیوی کے مال کی زکوٰۃ ادا کردے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اور شوہر کو بیوی پر احسان کرنے کا ثواب ملے گا۔

واضح رہے کہ مال کی زکوٰۃ ادا کرنا   اسلام کے  بنیادی ارکان میں سے ہے۔ قرآن مجید میں تقریباً بتیس جگہ نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو ذکر کیا گیا ہے۔ نیز  متعدد احایث  مبارکہ میں   اسلام کے ارکان میں زکوٰۃ کو بھی شمار کیا گیا ہے۔ دنیامیں زکوٰۃ  نکالنا مال کی پاکی  کا ذریعہ ہے اور    آخرت میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینے والوں کو خوش خبری سنائی ہے کہ  وہ ہر قسم کے غم اور خوف سے  محفوظ ہوں گے۔

قرآن مجید میں ہے:

"إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ."

(سورة البقرة، الآية: ٢٧٧)

صحیح بخاری میں ہے:

"حدثني محمد بن عبد الرحيم: حدثنا عفان بن مسلم: حدثنا وهيب، عن يحيى بن سعيد بن حيان، عن أبي زرعة، عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن أعرابيا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: دلني على عمل، إذا عملته دخلت الجنة. قال: تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، وتؤدي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان.  قال: والذي نفسي بيده، لا أزيد على هذا. فلما ولى، قال النبي صلى الله عليه وسلم: من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة، فلينظر إلى هذا."

(كتاب الزكاة، باب وجوب الزكاة، رقم الحديث: ١٣٣٣،  ٢/ ٥٠٦.  ط: دار ابن كثير)

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

"الهداية: الزكاة واجبة على الحر  العاقل البالغ المسلم إذا بلغ نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول."

(كتاب الزكاة، باب وجوب الزكاة. المادة: ٣٩٣٤. ٣ / ١٣٣ . ط: كتبة زكريا ديوبند)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌والعبادة ‌لا ‌تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب."

(كتاب الزكاة، فصل زكاة الزروع والثمار.  ٢/ ٥٣. ط: دار الكتب  العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408102019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں