بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر لڑکی کو دییے گئے کپڑے کے جوڑوں اور منہ دکھائی میں دییے گئے زیور کا حکم


سوال

میری بیٹی کو  گزشتہ ہفتے  اس کے شوہر نے میرے گھر بھیج دیا ہے اور کہا ہے کہ  تم اب گھر جاؤ، اب یہ رشتہ آگے نہیں چل سکتا، تم جہیز کا سامنان منگوالو۔ میری بیٹی کو لڑکے والوں نے شادی کے موقع پر کپڑے کے چار پانچ جوڑے دیے تھےاور سونے کے بندےاور سونے کی چین منہ دکھائی میں دی تھی، دیتے وقت لڑکے نے کہا تھا کہ یہ میں نے تمہارے لیے خریدے ہیں اور اس نے اپنی ڈائری میں بھی یہی لکھا ہے کہ یہ چیزیں میں نے اپنی بیوی کے لیے خریدی ہیں لیکن دیتے وقت صراحتاً ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی کہ میں اپنی بیوی کو مالک بنا کر دے رہا ہوں۔

            دریافت یہ کرنا ہے کہ لڑکا اگر طلاق دے دے تو مذکورہ چیزیں میری بیٹی کی ہوں گی یا لڑکے کی ہوں گی؟ اور طلاق کی صورت میں لڑکے پر عدت کا کتنا خرچہ لازم ہوگا؟ جب کہ اس کی انکم ماہانہ دو لاکھ روپے ہے۔

جواب

واضح رہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو جو عام استعمال کی چیزیں (مثلاً کپڑے، جوتے، گھڑی وغیرہ) دی جاتی ہیں وہ سب لڑکی کی ملک ہوجاتی ہیں، البتہ سسرال یا شوہر کی طرف سے لڑکی کو جو زیور دیا جاتا ہے اس میں یہ  تفصیل ہے کہ اگر دیتے وقت عاریت( یعنی صرف استعمال کے لیے دینے)  کی صراحت  ہو تو وہ زیور لڑکے والوں کی ملکیت ہوگااور اگر ہبہ، گفٹ اور مالک بنا کر دینے کی صراحت کی گئی ہو تو پھر وہ لڑکی کی ملکیت  ہوگا اور اگر کسی چیز کی صراحت نہ ہوئی ہو تو اس صورت میں لڑکے کے خاندان کے  عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کا عرف بطورِ ملک دینے کا ہے یا ان کا کوئی عرف نہیں ہےتو ان دونوں صورتوں میں لڑکی زیور کی مالک ہوگی اور اگر ان کا عرف بطورِ عاریت دینے کا ہے تو اس صورت میں وہ سسرال والوں کی ملک ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی بیٹی کو لڑکے والوں نے شادی کے موقع پر جو کپڑے کے جوڑے دیے تھے وہ شرعاً لڑکی کی ملک ہیں، وہ لڑکا واپس نہیں لے سکتا۔

اور منہ دکھائی میں جو سونے کے بندے اور چین دی تھی اس کے متعلق چوں کہ دیتے وقت عاریت یا ملک کی صراحت نہیں کی تھی؛  اس لیے لڑکے کے خاندان کا عرف دیکھا جائےگا، اگر لڑکے کے خاندان کا عرف بطورِ ملک دینے کا ہے یا کوئی عرف نہیں ہے تو اس صورت میں یہ زیور لڑکی کا ہوگا اور اگر ان کا عرف بطورِ عاریت دینے کا ہے تو پھر یہ زیور لڑکے کا ہوگا۔

طلاق کی صورت میں عدت کے دوران مطلقہ کا نفقہ مرد پر شرعاً لازم ہے، البتہ اس کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں، بلکہ شوپر کی وسعت اور بیوی کی ضرورت کے بقدر نفقہ واجب ہے،لہذا شوہر کی  تنخواہ اور بیوی  کے ضروری اخراجات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہاہمی رضامندی سے نفقہ کی مقدار متعین کرلی جائے،جب کہ عدت شوہر کے گھر یا شوہر کی اجازت سےوالدین کے گھرپوری کرے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: و من ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد و المواسم من نحو ثياب و حلي، و كذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضًا."

(رد المحتار مع الدر المختار، جلد3، کتاب النکاح، باب المہر، ص:153، ط: ایچ ایم سعید)

و فیہ ایضاً:

"المعتمد البناء على العرف."

(رد المحتار مع الدر المختار، جلد3، کتاب النکاح، باب المہر، ص:157، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية."

(الفتاوی الهندیة، جلد1، کتاب النکاح، الباب السابع فی المہر، الفصل السادس فی جہاز البیت، ص: 327، ط: مکتبہ رشیدیہ)

قرآنِ کریم میں ہے:

{أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيْهِنَّۚ وَإِنْ كُنَّ أُوْلٰتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوْا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّۚ}

(سورة الطلاق، آيت نمبر:6)

ترجمہ:تم ان ( مطلقہ) عورتوں کو اپنی وسعت کے موافق رہنے کا مکان دو،  جہاں تم رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لیے ( اس کے بارے میں ) تکلیف مت پہنچاؤ اور اگر وہ ( مطلقہ )  عورتیں حمل والیاں ہوں تو حمل پیدا ہونے تک ان کو کھانے پینے کا خرچ دو۔

( ماخوز از بیان القرآن، مؤلفہ: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"يعتبر في هذه النفقة ما يكفيها، وهو الوسط من الكفاية، وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح للمعتدة إذا لم تخاصم في نفقتها، ولم يفرض القاضي شيئا حتى انقضت العدة فلا نفقة لها، كذا في المحيط."

(الفتاوی الهندیة، جلد1، کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ، ص: 558، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100773

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں