بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

شادی کی پہلی رات خون نہ آنے کی بنا پر زنا کی تہمت لگانا


سوال

ہمارے  علاقے  میں  یہ رواج  پایا جاتا ہے  کہ شادی كي پہلی رات اگر دلہن کی شرمگاہ سے خون جاری ہوا  اور  دخول  میں مشکل پیش آئی تو  اس کو عورت کے کنواری ہونے اور پاک دامن ہونے  پر  محمول کرتے ہیں، بصورتِ  دیگر اس پر  زنا كي تهمت لگاتے هیں،  كيا شرمگاہ سے خون کا نکلنا اور دخول میں دقت پیش آنا کنواری ہونے کی علامت ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ پردۂ  بکارت زائل ہونے کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں، مثلاً  شادی میں تاخیر   یا  مرض یا  دیگر  وجوہات بھی ہوتی ہیں، (مثلًا کسی جگہ سے چھلانگ لگانے یا کسی وجہ سے جھٹکا لگنا وغیرہ)  نیز بغیر ثبوت شرعی کے کسی مسلمان مرد یا عورت پربدکاری یا ناجائز تعلق  کی تہمت لگاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے؛ اس  لیے بصورتِ  مسئولہ  آپ کے علاقے  میں  شادی کی پہلی رات میں شرم گاہ سے خون نہ  آنے یا دخول میں مشکل پیش نہ  آنے کی بنا پر زنا کی تہمت لگانا قطعًا درست نہیں اور   خلافِ  شرع رواج ہے، اسے  ختم کرنا ضروری ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے  وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا  آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔

"عن علي قال: البهتان على البراء أثقل من السموات. الحكيم."

(كنز العمال (3/ 802)، رقم الحدیث: 8810)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200070

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں