بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر سسرال کی طرف سے دیئے جانے والے سونے کا مالک کون ہوگا اور اس کی زکوۃ کس پر لازم ہوگی ؟


سوال

لڑکی کی شادی میں سسرال کی طرف سے دیئے گئے سونے کا مالک کون ہوتا ہے، لڑکی  یا  اس کا شوہر ؟ اور اس کی زکوۃ کس پر فرض ہے؟

جواب

واضح رہے کہ لڑکی کو شادی کے موقع پر سسرال کی طرف سے جو سونا  دیا جاتا ہے اگر یہ مہر کے طور پردیا جائے تو اس کی مالک لڑکی ہوگی اور اس کی زکوۃ بھی لڑکی پر لازم ہوگی اور اگر یہ سونا مہر کے علاوہ دیا جائے ،تو  اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگریہ سونا  دیتے وقت  سسرال والوں نے اس بات  کی صراحت کی تھی کہ لڑکی کو یہ  بطورِ عاریت یعنی صرف  استعمال کرنے کے لیےدے رہے ہیں،تو اصل مالک شوہر ہوگا   تو پھر یہ سوناشوہر  کی ملکیت ہوگااور اگرسسرال والوں نےلڑکی کو ہبہ ، گفٹ اور  مالک بناکر دینے کی صراحت کردی تھی تو پھر اس سونے  کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر یہ سونا دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں  کی تھی   تو پھر لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کا عرف و رواج لڑکی کو بطورِ ملک دینے کا ہے  یا ان کا کوئی رواج نہیں ہے تو ان دونوں صورتوں میں سونے کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر  بطورِ عاریت دینے کا رواج ہے تو پھر سسرال والے ہی مالک ہوں گے۔

مذکورہ تفصیل کے مطابق اگر لڑکی اس سونے  کی مالک ہو تو اپنی شرائط کے ساتھ زکوۃ اس پر لازم ہوگی اور اگر لڑکا مالک ہو تواپنی شرائط کےساتھ زکوۃ اس پر  لازم ہوگی ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضاً."

(  کتاب النکاح، باب المهر، مطلب في ما يرسله إلي الزوجة ، 3/ 153،ط: سعید)

وفيه أيضا:

"يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما).

وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية: قال في البدائع: وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع. اهـ ."

(كتاب النكاح، باب المهر، 102/3، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407101120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں