بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر لفافہ دینا


سوال

آج کل شادیوں میں یہ  رواج ہے  کہ لوگ شادی کرنے والے کو   پیسے  ( جسے  ہمارے ہاں بلوچی میں "بجاری " کہتے ہیں)،  اس نیت سے دیتے ہیں کہ جب ہمارے بیٹے کی شادی ہوگی تو وہ بھی آکر ہمیں اس طرح پیسے دیں گے۔

اب ایک مولوی صاحب کا بیان سنا ہے کہ ایسی شادیوں میں جانا، پیسے دینااور کھانا کھانا حرام ہے، کیوں کہ آپ جو پیسے دیتے ہیں، پھر وہ آپ  کے بیٹے کی شادی میں آکر آپ کو پیسے لوٹائے گا، یہ  مبادلۃ المال بالمال ہے، یہ سود ہے۔

دریافت طلب یہ ہے کہ اس طرح پیسے  دینے اور ایسی شادیوں میں جانے اور پھر وہاں کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

شادی بیاہ کے موقع پر دولہا دولہن کو تحفہ تحائف بدلے  کی نیت کے بغیر دینا جائز ہے،  البتہ بدلہ  کی نیت سے دینا  ( یعنی کہ اس مقصد سے دینا کہ دینے والے کو بدلہ میں زیادہ ملے گا ) جسے اردو میں  "نیوتہ" اور بلوچی میں " بجاری"  کہا جاتا ہے،  قبیح رسم ہے،  اس مقصد سے دینا  شرعًا ممنوع ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالی ہے:

﴿ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّه...الآية﴾  [الروم:٣٩]

مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے   معارف القرآن میں ہے مذکورہ آیت کی تفسیر کی ذیل میں لکھا ہے  :

” اس آیت  سے ایک بری رسم  کی اصلاح کی گئی جو عام خاندانوں  اورا ہل قرابت  میں چلتی  ہے، وہ یہ ہے کہ  عام  طور پر کنبے رشتے  کے لوگ  جو کچھ  دوسرے کو    دیتے ہیں  ،ا س پر نظر ہوتی ہے   کہ وہ  بھی ہمارے وقت  پر کچھ ادا کرے گا ۔ خصوصاً  نکاح، شادی  وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ  دیاجاتا ہے ، اس کی یہی حیثیت  ہوتی ہے ، جس کو عرف عام میں نیوتہ کہتے ہیں ۔ا س آیت  میں ہدایت کی گئی ہے کہ اہل قرابت  کا  جو حق پہلی آیت  میں ادا کرنے کا  حکم دیاگیا ہے ،ا ن کو یہ حق  اس  طرح  دیاجائے  کہ نہ ان پر  احسان جتائے اور نہ کسی  بدلہ پر نظر رکھے  اور جس نے بدل کی نیت سے دیا  اس کا مال دوسرے عزیز  رشتہ دار کے مال میں شامل ہونے   کے بعد كچھ زیادتی لے کر آئےگا تو اللہ کے نذدیک اس کا  کوئي درجه اور ثواب نهيں،قرآن  کریم نے اس زیادتی کو ربا سے تعبیر کرکے اس کی قباحت  کی   طرف اشارہ   کردیا ہے کہ یہ صورت سود کی سی ہوگئی  ۔

مسئلہ: ہدیہ اور ہبہ دینے والے کو اس پر نظر رکھنا کہ اس کا بدلہ ملے گا یہ تو ایک بہت مذموم حرکت ہے، جس کو اس آیت میں منع فرمایا گیا ہے، لیکن بطور خود جس شخص کوئی ہبہ عطیہ کسی دوست عزیز کی طرف سے ملے اس  کے لیے اخلاقی تعلیم یہ ہے کہ وہ بھی جب اس کو موقع ملے اس کی مکافات کرے، رسوال اللہ ﷺ کی عادت شریفہ یہی تھی کہ جو شخص آپ کو کوئی ہدیہ پیش کرتا تو اپنے موقع پر آپ بھی اس کو ہدیہ دیتے تھے( كذا روي عن عائشة قرطبي)  ہاں اس مکافات کی صورت ایسی نہ بنائے کہ دوسرا آدمی یہ محسوس کرے کہ یہ میرے ہدیہ کا بدلہ دے رہاہے۔‘‘

(سورۃ الروم ، ٦ / ٧٥٠، ط:ادارۃ المعارف)

لہذا شادی اور ولیمہ کی دعوت میں آنے والے لوگ اگر صاحبِ دعوت یعنی دولہا یا دولہن کو اس لیے رقم یا لفافہ دیتے ہوں  کہ بعد میں صاحبِ دعوت رقم یا لفافہ دینے والوں کی شادی کی دعوت میں اس سے زیادہ رقم واپس کرے گاتو یہ سودی قرض ہے اور سودی قرض لینا دینا ناجائز اور حرام ہے، اور اگر دینے والے اس نیت سے دیتے ہوں کہ صاحبِ دعوت ان کی دعوت میں اتنی ہی رقم واپس کرے گا تو یہ قرض ہے، اور اسی قدر واپسی لازم ہے، البتہ اگر واپس لینے کی نیت نہ ہو، خالص ہدیہ یا تعاون ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ شریعت میں مطلوب ہے، پس  شادی، ولیمہ میں رقم وغیرہ دیتے ہوئے خالص ہدیہ کی ہی نیت کرنی چاہیے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں ایسی دعوتوں میں شرکت کرنا اور وہاں کھانا کھانا اگرچہ جائز ہے، تاہم دولہا یا دولہن کو اس نیت سے نقدی وغیرہ دینا کہ دینے والے کی دعوت میں اس کا بدلہ ملے گا،سود کی مشابہت کی وجہ سے حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے، لہذا  اگر کوئی دینا چاہے تو عوض ملنے کی نیت کے بغیر دے سکتا ہے۔ 

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"وفي الفتاوى الخيرية: سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها، هل يكون حكمه حكم القرض؛ فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل، يلزم الوفاء به مثلياً فبمثله، وإن قيمياً فبقيمته، وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولاينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه، فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً اهـ. قلت: والعرف في بلادنا مشترك، نعم في بعض القرى يعدونه قرضاً حتى إنهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى، فإذا جعل المهدي وليمةً يراجع المهدى الدفتر فيهدي الأول إلى الثاني مثل ما أهدى إليه‘‘.

(کتاب الهبة،٥ / ٦٩٦، ط: دار الفكر) 

درر الحکام في شرح مجلة الأحکام میں ہے:

" (المادة ٨٧٦) : الهدايا التي تأتي في الختان أو الزفاف ... (الخاتمة) إن الأشياء التي ترسل في حفلات كهذه إذا كانت تدفع عرفاً وعادةً على وجه البدل فيلزم القابض مثلها إذا كانت من المثليات وقيمتها إذا كانت من القيميات، وإذا كان لا يرسل بمقتضى العرف والعادة على وجه البدل، بل ترسل على طريق الهبة والتبرع فحكمها كحكم الهبة، ولا رجوع بعد الهلاك والاستهلاك، والأصل في هذا الباب هو أن المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً ".

(الکتاب السابع الهبة، المادة:۸۷۶ ۲ / ٤٨١ - ٤٨٢، ط: دار الجیل)

شرح المجلة لخالد الأتاسي میں ہے:

" الهدایا التي ترد في عرس الختان و الزفاف ... و هذا کله علی فرض أن المرسل هدیة، أما لو ادعی المرسل أنه قرض، ففي الفتاویٰ الخیریة ما نصه: سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها، هل يكون حكمه حكم القرض؛ فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثلياً فبمثله، وإن قيمياً فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولاينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً اهـ .قال في رد المحتار: والعرف في بلادنا مشترك، نعم في بعض القرى يعدونه قرضاً حتى إنهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى، فإذا جعل المهدي وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الأول إلى الثاني مثل ما أهدى إليه اهـ

قلت: والعرف الغالب في حمص أنهم ینظرون في ذلك إلی إعطاء البدل، وعلیه فما یهدي في ذلك من أرز أو سکر أو سمن أو شاة حیة یکون قرضاً صحیحاً أو فاسداً، فیطالب به من عمل الولیمة من أب أو غیره، و مثل هذا ما یهدیه أقارب العروس من النساء و البنات بعد أسبوع من زفافها و یسمونه نقوطاً في بلادنا، فلا شك أنه قرض تستوفیه کل واحدة منهن إذا تزوجت أو زوجت بنتها في یوم أسبوعها".

(الکتاب السابع الهبة، المادة:۸۷٦، ٣ / ٤٠١ - ٤٠٢، ط: مکتبة إسلامیة کوئٹه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100401

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں