بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شادی کے گواہ کی کیا حیثیت ہے؟


سوال

نکاح نامہ پر دولہے کے گواہوں کی کیا شرعی حیثیت ہوتی ہے؟ دولہا کے والد اور بھائی کیا اس کی شادی کے گواہ بن سکتے ہیں؟

جواب

ازروئے شرع نکاح صحیح ہونے کے لیے دولہا اور دلہن کی طرف سے علیحدہ علیحدہ دو گواہ ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ عاقدین (جو عموماً دولہا اور دلہن کا وکیل ہوتے ہیں) اور قاضی  کے علاوہ اگر دو مسلمان مرد  یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتیں گواہ ہوں تو نکاح منعقد ہوجاتاہے، اور اگر مسلمانوں کے مجمع میں نکاح ہوجائے اور باقاعدہ کسی کا نام گواہ کے طور پر نہ لکھا جائے تو  بھی شرعاً یہ نکاح منعقد ہوجاتاہے۔ البتہ نکاح نامہ کے مندرجات پر کرتے ہوئے قانونی تقاضا یہ ہے کہ شادی کے دو گواہ نامزد ہوں، یہ گواہ لڑکی کے رشتہ دار بھی ہوسکتے ہیں اور لڑکے کے رشتہ دار بھی ہوسکتے ہیں؛ پس شادی کے گواہ دولہا  کے والد اور بھائی،  یا کوئی اور بھی ہوسکتا ہے۔

 البتہ جہاں اعلانیہ نکاح نہ ہو، صرف گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا جارہاہو، وہاں والد یا بیٹے کو شادی کا گواہ نہ بنانا بہتر ہے، گو اس صورت میں بھی شرعاً  نکاح صحیح ہوجائے گا، البتہ اگر (خدانخواستہ) اختلاف ہوجائے  تو عدالت میں نکاح ثابت کرتے ہوئے باپ کی بیٹے کے حق میں اور بیٹے کی باپ کے حق میں گواہی قبول نہیں ہوتی، البتہ بھائی کی گواہی بھائی کے حق میں قبول ہوتی ہے، لہٰذا نکاح میں بھائی کو بہر صورت گواہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(وَ) شُرِطَ (حُضُورُ) شَاهِدَيْنِ (حُرَّيْنِ) أَوْ حُرٌّ وَحُرَّتَيْنِ (مُكَلَّفَيْنِ سَامِعَيْنِ قَوْلَهُمَا مَعًا) عَلَى الْأَصَحِّ (فَاهِمَيْنِ) أَنَّهُ نِكَاحٌ عَلَى الْمَذْهَبِ بَحْرٌ (مُسْلِمَيْنِ لِنِكَاحِ مُسْلِمَةٍ وَلَوْ فَاسِقَيْنِ أَوْ مَحْدُودَيْنِ فِي قَذْفٍ أَوْ أَعْمَيَيْنِ أَوْ ابْنَيْ الزَّوْجَيْنِ أَوْ ابْنَيْ أَحَدِهِمَا، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ النِّكَاحُ بِهِمَا) بِالِابْنَيْنِ".

تحته في رد المحتار:

"(قَوْلُهُ: وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ النِّكَاحُ بِهِمَا) أَيْ بِالِابْنَيْنِ أَيْ بِشَهَادَتِهَا، فَقَوْلُهُ: بِالِابْنَيْنِ بَدَلٌ مِنْ الضَّمِيرِ الْمَجْرُورِ، وَفِي نُسْخَةٍ لَهُمَا أَيْ لِلزَّوْجَيْنِ، وَقَدْ أَشَارَ إلَى مَا قَدَّمْنَاهُ مِنْ الْفَرْقِ بَيْنَ حُكْمِ الِانْعِقَادِ، وَحُكْمِ الْإِظْهَارِ أَيْ يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بِشَهَادَتِهِمَا، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ بِهَا عِنْدَ التَّجَاحُدِ وَلَيْسَ هَذَا خَاصًّا بِالِابْنَيْنِ كَمَا قَدَّمْنَاهُ". (الشامية، كِتَابُ النِّكَاحِ، ٣ / ٢١ - ٢٤، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107201197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں