بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1441ھ- 07 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ ۔بیوی سے دور آدمی کا غیر فطری طریقہ سے خواہش پوری کرنا


سوال

مفتی صاحب میں دبئی میں ہوں بیوی سے دور ہوں۔ مجھے کبھی خواہش ہوجاتی ہے تو عضو تناسل کو اپنی رانوں میں رگڑکر انزال کرتاہوں ، ہاتھ نہیں لگاتا ۔ کیا اسلام میں اسکی کنجائش ہے ؟ بہت کوشش کرتاہوں کہ بچ جاؤں مگر برداشت نہیں ہے ؟

جواب

شریعت نے جنسی خواہش کی تسکین کے لئے عفت والا راستہ نکاح کومتعین کیاہے ، اس حلال راستہ کے علاوہ کسی بھی طریقہ سے اپنی خواہش پوری کرنا حدودسے تجاوز کرنے کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے ۔شادی شدہ آدمی کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 4 ماہ سے زائد بیوی سے جدا رہنے کی ممانعت کا ضابطہ نافذ فرمایا تھا ۔اس لئے سائل جب شادی شدہ ہے توناجائز طریقہ جنسی تسکین پوری کرنے کے بجائے بیوی کو اپنے پاس بلالے یاخود بیوی کے پاس چلاجائے تاکہ میاں بیوی دونوں عفت اور پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارسکے ۔ تاھم جب تک ایسا بندوبست نہ ھو سکے تواضطراری حالت میں تسکین شھوت کے لیئے ہاتھ یاران کے ذریعہ اخراج منی کی صورت میں امید ہے کہ مواخذہ نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143406200063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں