بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ کی ایک نماز کا ثواب اکیس نمازوں کے برابر، روایت کی تحقیق


سوال

 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندے کو نکاح کے بعد ایک نماز پر اکیس نماز کا ثواب ملتا ہے۔  کیا یہ روایت صحیح ہے ؟

جواب

 یہ روایت مختلف کتابوں میں الفاظ کے اختلاف اور  نماز کی رکعتوں کی تعداد  کے فرق کےساتھ حضرت انس ، اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے شدیدضعیف سندوں سے مروی ہے۔

چناں چہ امام عقیلی رحمہ اللہ تعالی( 322ھ) نے "کتاب الضعفاء" میں   مجاشع بن عمرو،عن عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن انس کے طریق سے نقل فرمائی ہے،جس کے الفاظ یہ ہیں:

"ركعتان من المتزوج أفضل من سبعين ركعة من الأعزب"

ترجمہ:

شادی شدہ شخص کی دو رکعات نماز کنوارے کی ستر رکعات نماز سے افضل ہے۔

( الضعفاء الكبير للعقيلي، رقم الراوي: 1869، 4: 264، (ت: عبد المعطي أمين قلعجي)، دار الكتب العلمية، ط: الأولى، 1404ه)

امام عقیلی نے  مجاشع بن عمرو کی منکر روایات میں اسے شمار فرمایا ہے، اورمجاشع کے متعلق فرماتے ہیں:

"مجاشع بن عمرو حديثه منكر غير محفوظ، حدثنا محمد بن عثمان قال: حدثنا يحيى بن معين، يقول: مجاشع بن عمرو قد رأيته أحد الكذابين".

ترجمہ:

"مجاشع بن عمرو کی  احادیث منکر اور غیر محفوظ ہیں،اور محمد بن عثمان یحیی بن معین رحمہ اللہ تعالی سے نقل فرماتے ہیں کہ مجاشع بن عمرو  جھوٹوں میں سے ایک ہے۔"(المصدر السابق)

ابن حبان رحمہ اللہ تعالی(354ھ) فرماتے ہیں:

"كان ممن يضع الحديث على الثقات."

ترجمہ:

"یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قابل اعتماد لوگوں کے واسطے سے خود ساختہ احادیثیں بیان کرتے ہیں۔ "

(المجروحين لابن حبان، رقم الراوي: 1047، 16: 352 ت: حمدي عبد المجيد السلفي، دار الصميمي، ط: الأولى، 1420ھ)

اور حافظ تمام رازی رحمہ اللہ تعالی(414ھ)"کتاب الفوائد"  میں مسعود بن عمرو البكری  عن حميد الطويل، عن انس بن ما لک کے طریق  سے،ان الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

"ركعتان من المتأهل، خير من اثنتين وثمانين ركعة من العزب."

ترجمہ:

"شادی شدہ آدمی کی دو رکعات غیر شادی شدہ کی بیاسی رکعات سے بہتر ہے۔"

( الفوائد لأبي القاسم تمام الرازي، رقم الحديث: 751، 1: 299، (ت: حمدي عبد المجيد السلفي)، مكتبة الرشد، ط: الأولى، 1412ه)

اس اعتبار سے شادی شدہ آدمی کی دو رکعات والی نماز غیر شادی شدہ کی اکیس نمازوں سے بہتر ہوئی۔

مسعود بن عمرو البکری کي اس روايت كو  حافظ ذہبی(748ھ)،اورشیخ الاسلام ابن حجر رحمهما الله تعالي(852ھ) نے باطل قرار ديا هے،وه فرماتے ہیں:

"لا أعرفه وحديثه باطل"

 میں انہیں نہیں جانتا،اور ان کی یہ حدیث باطل ہے۔

( ميزان الاعتدال للذهبي، رقم الراوي: 8476، 4: 100، (ت: علي محمد البجاوي)، دار المعرفة، بيروت۔ لبنان)

(لسان الميزان لابن حجر، رقم الراوي: 7695، 8: 46، (ت: عبد الفتاح أبو غدة)، دار البشائر الإسلامية، ط: الأولى، 2002م)

اور اسی طریق سے  ضیاءالدین  مقدسی(643ھ) نے  المختارۃمیں اسے روایت کیا ہے۔

(المختارة لضياء الدين المقدسي،بقية حديث حميد الطويل عن أنس،رقم الحديث: 2101، 6: 109، ت: عبد الملك بن عبد الله بن دهيش)، دار خضر للطباعة والنشر،ط: الرابعة: 1421ھ)

علامه سيوطی رحمہ الله تعالی ( 911ھ)"اللآلي المصنوعة "میں اس پر شیخ الاسلام ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کا نقد نقل کیا، وہ فرماتے ہیں:

"لكن تعقبه الحافظ ابن حجر في أطرافه فقال: هذا حديث منكر ما لإخراجه معنى."

ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے ( ضیاء الدین مقدسی پر) اپنے" أطراف" میں تعقب کیا ہے،چناں چہ وہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے،اس کو "الأحاديث المختارۃ" ميں لانے کی کوئی معقول وجہ نہیں ۔

(اللآلي المصنوعة للسيوطي، كتاب النكاح، 2: 136، (ت: ابو عبد الرحمن صلاح بن محدم بن عویضۃ، دار الكتب العلمية، ط: الأولى، 1417ھ)

اسی طرح یہ روایت ابن عدی نے یوسف بن السفر کی طریق سے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی سے نقل فرمائي هے، اور اسے موضوع قرار دیا ہے۔

( الكامل في ضعفاء الرجال، فی ترجمۃ یوسف بن السفر، 8: 160، (ت: سہیل زکار)، ط: الثالثۃ، دار الفکر)

یہی وجہ ہے کہ ابن جوزی رحمہ اللہ تعالی(597ھ) اس  حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ 

الموضاعات لابن الجوزي، كتاب النكاح، 2: 258، (ت: عبد الرحمن محمد عثمان، ط: الأولى، 1386)

خلاصہ کلام :

حاصل یہ ہے  کہ اس روایت کی جتنی سندیں ہیں،ان میں سے بعض موضوع ہیں، اور بعض شدید ضعیف ہیں،لہذا بیان کرنے میں احتیاط کی جائے۔ 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں