بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

شہید ہونے کی وجہ سے ملنے والے فنڈ کا حکم


سوال

میرے والد صاحب شہید ہوئے ہیں، حکومت کی طرف سے ایک کروڑ روپے مالی امداد ملے گی، میری والدہ زندہ ہے، جب کہ ہم دو بھائی اورپانچ بہنیں ہیں ، اس کی شرعی تقسیم کیا ہوگی ؟

جواب

واضح رہے کہ ملازمین کے  انتقال  کےبعد ان کے لواحقین کو   ملنے فنڈ اگرمحکمہ والے صرف بیوہ یا اولاد کے لیے مخصوص کر دیتے ہیں، جیسا کہ گریجویٹی یا بینوولنٹ فنڈ تو پھر یہ سب کچھ اُسی کو ملے گا جس کے لیے انہوں نے مخصوص کر دیا۔ اس لیے کہ ان دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے کی طرف سے انعام ہوتا ہے،اور انعام  اسی کا ہوتا ہے جسے دینے والا دیتا ہے اور جتنا دیتا ہے ؛ اس لیے یہ فنڈز ان ہی کے  ہوں گے جن کو ادارہ نامزد کرے گا،کسی اور کا اس میں حق نہیں ہوگا۔

اور  اگر وہ کسی کے لیے مخصوص نہیں کرتے،جیسا کہ پراویڈنٹ فنڈ اور ایمپلائز ویلفئر فنڈ  تو اس رقم کا حکم یہ ہے کہ : یہ ملازم کا ترکہ ہوتی ہے اور اس کے پس ماندگان میں وراثت کے اصولوں کے تحت تقسیم ہوتی ہے؛لھذا صورت مسئولہ میں آپ کے والد مرحوم کو حکومت کی جانب سے  ملنے والی رقم میں  اگر  یہی  دوسری صورت ہےکہ   اس فنڈ کو اولاد یا بیوہ کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا تو  ورثاء  میں سے ہر ایک کو اس فنڈ اور دیگر ترکہ میں سے   ا ن کا شرعی حصہ  دیا جائےگا۔

والد مرحوم کی میراث ان کے ورثاء میں تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس کو باقی کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی کل ترکہ کے ایک تہائی میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکہ  منقولہ و غیر منقولہ کو 72 حصوں میں تقسیم کرکے 9 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14  حصے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

میراث کی تقسیم کی صورت یہ ہے:

میت: سائل کے والد، مسئلہ: 72/8

بیوہ بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
9141477777

یعنی مثلا 100 روپے میں سے 12.5 روپے مرحوم کی بیوہ کو، 19.444 روپے ان کے ہر ایک بیٹے کو اور 9.722 روپے ان کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

نوٹ:مذکورہ  تقسیم اس صورت میں  ہے جب  کہ مرحوم کے انتقال کے وقت  مرحوم کے والدین میں سے کوئی حیات نہیں تھے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن تركه الميت من الأموال صافيًا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال، كما في شروح السراجية."

(  کتاب الفرائض،6/759 ط: سعید)

       امداد الفتاوی میں ہے:

’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسان ِ سرکار ہے، بدونِ  قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے  تقسیم کردے۔‘‘

(4/343، کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، ط: دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144407101667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں