بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شبِ قدر میں مسجد کے اندر وعظ و نصیحت کرنا


سوال

لیلۃ القدر میں مسجد کے اندر عوام الناس کو وعظ و نصیحت کرنا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ شب قدر کسی ایک رات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے   رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اس کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے ۔

شب قدر کی بہت زیادہ فضیلت قرآن مجید اور حدیث مبارک میں وارد ہوئی ہے ،چنانچہ شب قدر  ہزار مہینوں  سے بہتر ہے ،اس رات میں ملائکہ اللہ کے حکم سے اترتے ہیں اور یہ رات سلامتی والی رات ہے، اس رات میں کوئی بھی عبادت کی جائے ، نیک کام کیا جائے تو وہ ایسا ہے کہ گویا ہزار مہینے تک وہ نیک کام کیا ،لہذا آخری عشرہ کی طاق راتوں میں عبادت ،نیک اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے ۔

وعظ و نصحیت کرنا ،بیانات کرنا ،لوگوں کو  اچھے کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے روکنا یہ بھی نیک کام اور باعث ثواب ہے ، دیگر نیک اعمال کی طرح یہ عمل بھی طاق راتوں میں کیا جاسکتا ہے ،البتہ  وعظ ونصحیت اور  بیانات کو ان راتوں میں ضروری سمجھناشرکت نہ کرنے والوں کو ملامت کرنا غلط ہے ، اس صورت میں یہ عمل بجائے ثواب کے بدعت کے زمرے میں داخل ہوسکتاہے۔

قرآن مجید میں ہے:

"إِنَّآ أَنزَلْنٰهُ فِي ‌لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ  وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ  لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ  تَنَزَّلُ ٱلْمَلٰئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ  سَلٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ."[القدر: 1-5]

 مشکاۃالمصابیح میں ہے :

"إياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة ‌بدعة وكل ‌بدعة ضلالة» . رواه أحمد."

(كتاب الاِيمان ،باب الاعتصام بالكتاب السنة ،ج،1 ،ص، 58 ،ط :دارالمعرفة)

فتح الباری میں ہے :

"المحدثه" والمراد بها ما أحدث، وليس له أصلٌ في الشرع ويسمي في عرف الشرع ’’بدعة‘‘، وما کان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة، فالبدعة في عرف الشرع مذمومة بخلاف اللّغة : فإن کل شيء أحدث علي غير مثال يسمي بدعة، سواء کان محمودًا أو مذمومًا".

(باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج، 13، ص، 253 ،ط: دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے :

"وكل مباح ‌يؤدي إلي  السنة اوالواجب فمكروه."

(باب صلاۃ المریض ،2 ،ص ،105 ،ط :سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509101999

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں