بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شب براءت کی عبادت


سوال

شب براءت کی عبادت کہیں سے ثابت ہے؟

جواب

  شریعتِ اسلامیہ نے جن متبرک راتوں میں جاگنے اور عبادت کے ذریعے انھیں زندہ کرنے کی تعلیم دی ہے، ان میں شعبان کی پندرہویں رات بھی ہے، جسے شبِ براءت کہا جاتا ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ زمانے سے لے کر صحابہٴ کرام، تابعین، تبعِ تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین تک ہر زمانے میں اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے اور اللہ کے نیک بندے ہر زمانے میں اس رات میں خصوصی عبادت کا اہتمام فرماتے رہے ہیں ، اس موقع پر کرنے کے کام کیا ہیں؟ یہاں مختصر اانہیں بیان کیا جاتا ہے۔

 (۱) طبعی نشاط وتحمل کے بقدر جاگ کر عبادت کرنا، مثلاً نوافل، تلاوت، استغفار دعا وغیرہ میں مشغولی اس دھیان کے ساتھ کہ صبح کی نماز متاثر نہ ہو؛ بلکہ عام دنوں کی طرح اس روز بھی فجر کی نماز کا اہتمام باجماعت ہو، شب کی نفلی عبادت کرنےکے بعد جسمانی تھکن کی وجہ سے اگر نماز قضا ہوگی یا جماعت فوت ہوجائے گی تو رات بھر کا بیدار رہنا بے کارہوجائے گا۔

 (۲) پندرہویں تاریخ میں روزہ رکھنا ,اس کا ثبوت اگرچہ ایک ضعیف حدیث سے ہے؛ لیکن اس اعتبار سے کہ یہ تاریخ ایامِ بیض میں سے ہے اور   ایامِ بیض (۱۳،۱۴،۱۵)  کے روزوں کا استحباب صحیح احادیث سے ثابت ہے؛  لہذا بہتر یہ ہے کہ 13 اور 14 شعبان کا بھی روزہ رکھے، نیز یکم شعبان سے لے کر ستائیس شعبان تک احادیث میں روزہ رکھنے کی فضیلت وارد ہے،  اس لیے ان دو وجہوں کی بنا پر اگر پندرہ شعبان میں روزہ رکھا جائے گا تو یقینًا موجبِ ثواب ہوگا ؛  لیکن اس روزہ میں نفلی روزہ ہونے کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے، نفلی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا رکھنا باعث ثواب ہے اور اس کے ترک پر کوئی گناہ نہیں۔

 (۳) زندگی میں ایک آدھ مرتبہ اس شب میں قبرستان جاکر مرحومین کو ایصالِ ثواب کرنا، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاکسی کو بتائے ایک مرتبہ جنت البقیع میں تشریف لے جانا ثابت ہے؛ لہٰذا اتباعِ رسول کے جذبے سے کسی اہتمام اور پابندی کے بغیر اگر قبرستان چلے جائیں تو اجر کا باعث ہے،قبرستان جانے کو لازم نہ سمجھیں؛ اس کوشبِ براءت کےاعمال کا مستقل جز ءنہ بنایاجائے کہ اگر قبرستان نہ گئے تو شبِ براء ت ادھوری رہ جائے گی۔ 

چناں چہ  سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن عائشة، قالت: فقدت النبي - صلى الله عليه وسلم - ذات ليلة فخرجت أطلبه، فإذا هو بالبقيع، رافع رأسه إلى السماء، فقال: "يا عائشة، أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله؟ " قالت: قد قلت، وما بي ذلك، ولكني ظننت أنك أتيت بعض نسائك، فقال: "إن الله تعالى ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا، فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب." 

( سنن ابن ماجه ، کتاب الصلاۃ ، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان،رقم الحدیث: 1389، ج:2 ص: 399،ط: دار الرسالة العالمية بیروت)

ایک اور جگہ ابن ماجہ میں ہے:

"عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها، وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له، ألا مسترزق فأرزقه، ألا مبتلى فأعافيه، ألا كذا ألا كذا، حتى يطلع الفجر." 

( سنن ابن ماجه، کتاب الصلاۃ ، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان،رقم الحدیث: 1388، ج:2 ص: 399،ط: دار الرسالة العالمية بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144510100085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں