بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

شب براءت کی فضیلت


سوال

شب  برأت کی فضیلت   بیان  کیجئے ۔

جواب

شعبان کی پندرہویں شب”شبِ برأت“کہلاتی ہے،یعنی وہ رات جس میں مخلوق کوگناہوں سے بری کردیاجاتاہے، کئی صحابہ کرامؓ سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ” شعبان کی پندرہویں شب کومیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی آرام گاہ پرموجودنہ پایاتوتلاش  کرنے نکلی ، اچانک  دیکھاکہ آپ جنت البقیع کے قبرستان میں ہیں، پھرمجھ سے فرمایاکہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیاپرنزول فرماتاہے اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے بھی زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے۔“دوسری حدیث میں ہے”اس رات میں اس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیاجاتاہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیاجاتاہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارا   رزق  اتارا  جاتا  ہے" ، اور  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزه  رکھا اور امت کو بھی روزے  رکھنے کی  ترغیب دی، ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہر مسلمان کو اس رات کی قدر کرنی چاہیے اور انفرادی عبادت کا اہتمام کرنا چاہیے، اللہ تعالی اپنے بندوں سے محبت کرتے ہیں اور اس رات میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے مغفرت کا اعلان ہوتا ہے، اسی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کو یہ رات محبوب ہے،خلاصہ یہ ہے کہ رات کو انفرادی طور پر نوافل وغیرہ ادا کرے اور اپنے لیے اور زندوں / مردوں کے لیے مغفرت کی دعا کرے اور دن میں روزہ رکھے۔

السنن ابن ماجہ میں  ہے: 

"1388 - حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن أبي سبرة، عن إبراهيم بن محمد، عن معاوية بن عبد الله بن جعفر، عن أبيه عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها، وصوموا نهارها (1)، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له، ألا مسترزق فأرزقه، ألا مبتلى فأعافيه، ألا كذا ألا كذا، حتى يطلع الفجر"

1389 - حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي ومحمد بن عبد الملك أبو بكر، قالا: حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حجاج، عن يحيى بن أبي كثير، عن عروةعن عائشة، قالت: فقدت النبي - صلى الله عليه وسلم - ذات ليلة فخرجت أطلبه، فإذا هو بالبقيع، رافع رأسه إلى السماء، فقال: "يا عائشة، أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله؟ " قالت: قد قلت، وما بي ذلك، ولكني ظننت أنك أتيت بعض نسائك، فقال: "إن الله تعالى ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا، فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب" .

1390 - حدثنا راشد بن سعيد بن راشد الرملي، حدثنا الوليد، عن ابن لهيعة، عن الضحاك بن أيمن، عن الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزبعن أبي موسى الأشعري، عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إن الله ليطلع في ليلة النصف من شعبان، فيغفر لجميع خلقه، إلا لمشرك أو مشاحن."

(السنن ابن ماجہ، باب:ماجاء في لليلة النصف من شعبان، ج:2 ص: 399،400  رقم 1388،1389،1390  ط:دار الرسالة العلمیة)

فضائل الاوقات للبیہقی میں ہے:

"حدثنا المحاربي، عن الأحوص بن حكيم، عن المهاجر بن حبيب، عن مكحول، عن أبي ثعلبة الخشني، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «إذا كان ليلة النصف من شعبان اطلع الله إلى خلقه، فيغفر للمؤمنين ويملي للكافرين، ويدع أهل الحقد."

(فضائل الأوقات للبیہقی، باب: في فضل للیلة النصف من شعبان، ص:123 رقم:23  ط:مکتبة المنارة)

فتاوی  ھندیۃ میں ہے:

"وأفضل أيام الزيارة أربعة يوم الاثنين والخميس والجمعة والسبت والزيارة يوم الجمعة بعد الصلاة حسن ويوم السبت إلى طلوع الشمس ويوم الخميس في أول النهار وقيل في آخر النهار وكذا في الليالي المتبركة لا سيما ليلة براءة وكذلك في الأزمنة المتبركة كعشر ذي الحجة والعيدين وعاشوراء وسائر المواسم كذا في الغرائب."

(الفتاوی الھندیة، الباب السادس: عشر في زیارة القبور وقراءة القرآن في المقابر، ج:5 ص:350 ط:دار الکتب العلمیة الأمیریة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100432

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں