بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ آدمی کا مہروں میں درد ہونے کی وجہ سے خود لذتی کرنے کا حکم


سوال

 میں شادی شدہ ہوں، میری عمر 31 سال ہے اور مجھے مہروں کا درد ہے ، اس صورت میں فطری طرز پر جنسی خواہش کی تکمیل کرنے سے عاجز ہوں، اس تکلیف کی وجہ سے جلدی اور بھر پور طریقے سے خواہش کی تکمیل نہیں ہو پاتی، اس صورت میں کیا شدید خواہش ہونے پر خود ہی مشت زنی سے خود کو تسکین دینا حرام ہے ؟ اسلام کا اس صورت میں کیا حکم ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃ ً درست ہو اور مہر وں میں درد ہونے کی وجہ سے فطری طریقہ سے بیوی کے ساتھ  جنسی تسکین نہیں کرسکتا تو سائل کو چاہیےکہ اپنی بیوی کے حقوق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  اپنی جنسی تسکین کے لیے اپنی بیوی سے معاونت لے  کر کوئی مناسب طریقہ اپنائے مشت زنی سے اجتناب کرے ۔

قرآنِ کریم میں باری تعالی کا ارشاد ہے:

"وَٱلَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حٰفِظُونَ ٥ إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوٰجِهِمۡ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ٦ فَمَنِ ٱبْتَغَىٰ وَرَآءَ ذٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْعَادُونَ ٧(سورۃ المؤمنون:5-8)

ترجمہ: اور جو اپنی شرم گاہوں کی (حرام شہوت رانی سے)حفاظت رکھنے والے ہیں،لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی)لونڈیون سے (حفاظت نہیں کرتے) کیوں کہ ان پر (اس میں)کوئی الزام نہیں۔

شعب الایمان میں حدیث ہے:

"عن أانس بن مالك قال:"يجي الناكح يده يوم القيامة ويده حبلي."

(السابع والثلاثون من شعب الايمان،ج:7،ص:330،ط:دار الكتب العلمية)

ترجمہ:"مشت زنی کرنے والا قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کی انگلیاں گابھن ہوں گی۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"في الجوهرة: ‌الاستمناء حرام، وفيه التعزير. ولو مكن امرأته أو أمته من العبث بذكره فأنزل كره ولا شيء عليه."

(قوله: ‌الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قاله أبو الليث، ويجب لو خاف الزنا (قوله: كره) الظاهر أنها كراهة تنزيه؛ لأن ذلك بمنزلة ما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين تأمل.

(كتاب الحدود،ج:4،ص:27،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407100949

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں