بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سیلاب زدگان کو زکوۃ دینے کاحکم


سوال

کیا ہم قدرتی آفات جیسے سیلاب یا زلزلہ زدگان کے لیے زکوٰۃ کی رقم دے سکتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ یہ عام امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال کی جائے گی اور ممکن ہے تمام متاثرین زکوٰۃ کے اہل نہ ہوں اور کچھ متاثرین مسلمان نہ ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ شخص(جس کو زکاۃ دی جارہی ہو)غیر مسلم نہ ہو، اور زکوۃ کا مستحق ہو ، یعنی اس کی ملکیت میں  ضرورت سے زائد   نصاب   زکوۃ ( ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی  یا اس کی قیمت) کے برابر  رقم  نہ ہو، اور نہ ہی اس کی ملکیت میں  اس  قدر ضرورت  اور استعمال سے زائد  سامان ہے، جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہے اور نہ  ہی  وہ سید ، ہاشمی ہے، نیز زکوۃ  کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے مستحق شخص کو زکوٰۃ کی رقم  بلا عوض مالک بنا کر دے دی جائے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سیلاب یا زلزلہ زدگان میں سے اُن لوگوں کو  مالک بناکر زکوۃ دیناجائز ہے جو مسلمان ہو اور مستحق زکوۃ ہو  یعنی اس کی ملکیت میں  ضرورت سے زائد   نصاب   زکوۃ ( ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی  یا اس کی قیمت) کے برابر  رقم  نہ ہو، اور نہ ہی اس کی ملکیت میں  اس  قدر ضرورت  اور استعمال سے زائد  سامان ہو، جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہو اور نہ  ہی  وہ سید ، اور ہاشمی ہو، باقی جب زکوۃ دہندہ اپنی زکوٰۃ خود تقسیم نہیں کرتاہے، بلکہ کسی فلاحی ادارہ یا فلاحی کام کرنے والی شخصیت کو دے رہاہے، تو اس صورت میں اس ادارہ یا شخصیت کے بارےمیں دل کا مطمئن ہونا کافی ہے کہ فلاں شخص امانت دار اور دیانت دار ہے اور زکوٰۃ کے مصرف کے بارے میں اس کو  بخوبی علم ہے، لہذا اس کو زکوٰۃ کی وضاحت کرکے دینے سے زکوٰۃ دہندہ بری الذمہ ہوجائے گا، پھر اس وکیل کی ذمہ داری ہوگی  کہ زکوٰۃ کو درست مصرف میں استعمال کرے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"أما تفسيرها (الزکاۃ) فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -"

[کتاب الزکاۃ ، ج:1/ 170،ط:دارالفکر بیروت]

الدر المختار علی ہامش رد المحتار میں ہے:

"(هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك)خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه ".

(کتاب الزکوۃ،257/2،سعید)

بدائع الصنائع ميں ہے :

"ومنها أن يكون مسلما فلا يجوز صرف الزكاة إلى الكافر بلا خلاف لحديث معاذ - رضي الله عنه - «خذها من أغنيائهم وردها في فقرائهم» أمر بوضع الزكاة في فقراء من يؤخذ من أغنيائهم وهم المسلمون فلا يجوز وضعها في غيرهم".

(کتاب الزکوۃ،49/2،دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144407101659

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں