بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1443ھ 16 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کسی مصروفیت کی وجہ سے سحر کے وقت متردد نیت کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی کو صبح کسی  مصروفیت کا شک ہو جس کی وجہ سے وہ روزہ نہ رکھنا  چاہتا ہو، لیکن وہ سحری کر لے اور نیت ایسی کرے کے اگر 10 بجے تک وہ مصروفیت پیش نہ آئی  تو میرا روزہ ہوگا اگر پیش آئی تو روزہ نہیں ہوگاتو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟  یعنی کیا روزے کی نیت کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ رمضان کے روزہ  کی نیت کا وقت نصف نہار (فجر کی ابتدا  سے غروب تک کے وقت کا نصف) تک ہے ،  یعنی اگر کوئی شخص سحری کے وقت روزہ  کی پکی نیت نہیں کرسکا اور نصف النہار سے پہلے  پکی نیت کرلیتا ہے تو وہ روزہ دار شمار ہوگا  اور اس کا روزہ ادا ہوجائے گا اور اگر نصف النہار سے پہلے  پختہ نیت نہیں کرتا تو شرعًا روزہ دار شمار نہیں ہوگا؛  لہذا سائل  کا اس طرح نیت کرنا کہ اگر 10 بجے تک مصروفیت درپیش ہوئی تو روزہ نہیں ہوگا اور اگر درپیش نہ ہوئی رو زہ ہوگا  اس نیت سے سائل روزہ  دار  نہیں بنے گا اور نصف النہار سے پہلے پکی نیت کرنی ہوگی۔

البتہ صورتِ  مسئولہ میں سائل کے لیے نیت کو مؤخر کر کے مصروفیت  کی وجہ سے روزہ  چھوڑنا  جائز نہیں ہوگا اور سائل اس پر سخت گناہ گار ہوگا؛ کیوں کہ مرض  اور  سفر  کے علاوہ رمضان کا فرض  روزہ چھوڑنا سخت گناہ ہے، اور سفر میں بھی حکم یہ ہے کہ اگر سحری کے وقت سفر میں ہو تو روزہ چھوڑ سکتاہے، اگر سحری کے وقت اپنے شہر میں ہو، اور دن میں سفر کرنا ہو تو اس دن روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔

الفتاوى الهنديہ میں ہے:

"«ووقت النية كل يوم بعد غروب الشمس، و لايجوز قبله كذا في محيط السرخسي ولو نوى قبل أن تغيب الشمس أن يكون صائما غدا ثم نام أو أغمي عليه أو غفل حتى زالت الشمس من الغد لم يجز، وإن نوى بعد غروب الشمس جاز كذا في الخلاصة. جاز صوم رمضان، والنذر المعين، والنفل بنية ذلك اليوم أو بنية مطلق الصوم أو بنية النفل من الليل إلى ما قبل نصف النهار، وهو المذكور في الجامع الصغير وذكر القدوري ما بينه وبين الزوال».

(کتاب الصوم باب اول ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۹۵،دا رالفکر)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"٢٠١٣ - وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من أفطر يومًا من رمضان من غير رخصة ولا مرض لم يقض عنه صوم الدهر كله وإن صامه» " رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي والبخاري في ترجمة باب."

(کتاب الصوم باب تنزیہ الصوم ج نمبر ۴ ص نمبر ۱۳۹۸)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں