بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سیر اور کلو اعتبار سے صدقہ فطر کی مقدار


سوال

گندم کے اعتبار سے صدقۂ  فطر نصف صاع ہے اور  علماء نے نصف صاع کی مقدار  پونے دو سیر لکھا ہے، اور  ہمارے علاقہ  ( سوات، بونیز ) میں سیر 1250 گرام  کے برابر شمار ہوتا  ہے (جس کو پوخ   یعنی پکا سیر  کہتے ہیں )، اس اعتبار سے بعض علماء فرماتے ہیں کہ  پونے دو سیر   دو کلو  88 گرام بنتا ہے، اور احتیاطا فطرانہ  دو سیر ہے تو دو سیر  ڈھائی کلو بنتا ہے، اور صدقہ فطر ڈھائی کلو یعنی 2500 گرام  گندم یا اس کی قیمت نکالنا ہے۔

  اب پوچھنا یہ ہے  پونے دو سیر کا مقدار کلو کے اعتبار سے کتنا بنتا ہے ؟آیا سیر کلو سے بڑا ہے یا کلو کے برابر ہے؟اور علماء نے جو سیر لکھا ہے، اس سے کونسا سیر مراد ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ صدقہ فطر کے مقدار میں اصل پیمانہ "صاع " کا ہے، اور صاع  بغدادی آٹھ  رطل  کے برابر ہے، اور  ایک صاع  مثقال کے حساب سے   دو سو ستر تولہ بنتا ہے،  اور دراہم کے حساب  1040 درہم اور   دو سو تہتر تولہ   کے برابر ہے، اور مد کے حساب سے دو سو اسی تولہ چھ ماشہ بنتا ہے اور احتیاط چوں کہ آخری والے حساب میں ہے؛ اس لیے اسی کو لینا زیادہ بہتر ہے، مزید یہ کہ    80 تولے کا وزن   انگریزی  ایک  سیر کے برابر ہے، اور ایک تولے کا وزن 11.664 گرام کے برابر ہے، تو اس اعتبار سے ایک سیر کا وزن 933.12 گرام کے برابر ہے، اور پونے دو سیر کا وزن 1632.96 گرام کے برابر ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں علماء نے جو سیر لکھا ہے اس سے مراد 80 تولہ انگریزی سیر مراد ہے جو  933.12 گرام کے برابر ہے، اور صدقہ فطر میں یہی سیر مراد ہےاور اس اعتبار سے پونے دو سیر  1632.96 گرام کے برابر ہے، اور احتیاطا پونے دو کلو  بلکہ دو کلو  کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرنا چاہیے، مذکورہ علاقہ میں جو سیر کا وزن 1250 گرام لکھاہے یہ مراد نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انگریزی سیر کلو سے تھوڑا کم ہے،جبکہ مذکورہ علاقوں میں سیر بڑا ہے۔

اوزان شرعیہ میں مفتی شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں:

"گندم سے صدقۃ الفطر کی مقدار واجب نصف صاع ہے، اور نصف صاع پہلے حساب سے اسی تولہ کے سیر سے ڈیڑھ سیر تین چھٹانک کا ہوا، اور دوسرے حساب سے ڈیڑھ سیر تین چھٹانک ڈیڑھ تولہ، اور تیسرے حساب سے پونے دوسیر تین ماشہ ہوا، جن میں زائد سے زائد سوا پانچ تولہ کی زیادتی ہے، اس لئے احتیاط اس میں ہے کہ اسی تولہ کے سیر سے پونے دو سیر گندم ایک صدقہ الفطر میں نکالے جاویں۔"

(اوزان شرعیہ، صاع کا وزن اور صدقہ فطر کی مقدارصحیح،   ص:34، ط:ادارۃ المعارف)

 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وهو) أي ‌الصاع المعتبر (ما يسع ألفا وأربعين درهما من ماش أو عدس) إنما قدر بهما لتساويهما كيلا ووزنا...(قوله وهو أي الصاع إلخ) اعلم أن الصاع أربعة أمداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالدراهم مائتان وستون درهما وبالإستار أربعون والإستار بكسر الهمزة بالدراهم ستة ونصف بالمثاقيل قيل أربعة ونصف كذا في شرح درر البحار فالمد والمن سواء كل منهما ربع صاع مائة وثلاثون درهما، وفي الزيلعي والفتح: اختلف في الصاع فقال الطرفان ثمانية أرطال بالعراقي وقال الثاني خمسة أرطال وثلث، قيل لا خلاف؛ لأن الثاني قدره برطل المدينة؛ لأنه ثلاثون إستارا والعراقي عشرون وإذا قابلت ثمانية بالعراقي بخمسة وثلث بالمديني وجدتهما سواء وهذا هو الأشبه؛ لأن محمدا لم يذكر خلاف أبي يوسف ولو كان لذكره؛ لأنه أعرف بمذهبه اهـ وتمامه في الفتح."

 (كتاب الزكاة، ‌‌باب صدقة الفطر، ج:2، ص:365، ط:سعيد)

معجم لغة الفقهاء  میں ہے:

"ومقدار ‌الصاع عند الحنفية: 4 أمداد = 8 أرطال =    1028 درهما =،  362، 3 لترا =  ، 3261 غراما."

(حرف الصاد، ‌الصاع، ص:270، ط:دار النفائس للطباعة والنشر والتوزيع)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

"( الجواب) صدقہ فطر میں اسی تولہ کے سیر سے پونے دوسیر گیہوں دینے چاہئیں نصف صاع کے ایک کلو پانچ سو چھتر گرام ہوتے ہیں، زکوۃ کی مقدار نصاب سوا پانچ تولہ سونا یا ساڑھے چھتیس تولہ چاندی معتبر نہیں، یہ تحقیق حضرت مولانا عبد الشکور لکھنوی کی ہے۔"

(کتاب الصلوۃ، باب  صدقۃ الفطر، ج:7، ص:197، ط:ادارۃ الاشاعت)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"الجواب حامداً ومصلياً :

صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم اور ایک صاع جو ہے  ، صاع بھی عرب میں مختلف تھے اور سیر بھی مختلف تھے، نیز جو ، رتی   میں اختلاف تھا، ان سب کو دیکھتے ہوئے جو حساب لگایا گیا ، تو اسی کے سیر سے یعنی اسی تولہ کا  سیر مانا جائے، تو نصف صاع ڈیڑھ سیر کا ہوا، پھر احتیاط کے طور پر پونے دو سیر فطرہ تجویز کیا گیا، ایک صاع کا وزن اس سے دو گنا ہے، سیر بعض  مقامات پر نوے کا ہے، اور  بعض جگہ  سو کا،  بعض جگہ زائد کا ہوتا ہے، انگریز کے دور میں سیر 80 کا بنایا گیا۔

فتاوی رشیدیہ میں صاع کا وزن کا طریقہ مذکور ہے ، اب موجودہ وقت میں کلورائج ہے، اس کے اعتبار سے نصف صاع کا وزن ایک کلو 644 گرام ہے، اتنی مقدار دینے سے واجب ادا ہو جائے گا ، کچھ زائد دے دیا جائے تو بہتر ہی بہتر ہے۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔حرره العبد محمود غفر له، دار العلوم دیو بند ، ۱۴۰۰/۱۰/۲۹ھ۔"

(کتاب الزکاۃ، باب  صدقۃ الفطر و مصارفھا،  ج:22، ص:346، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101099

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں