بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اسکول انتظامیہ کا اسکول چھوڑنے پر ٹیچر کی تنخواہ نہ دینا


سوال

میری صاحبزادی ایک نجی اسکول میں ٹیچر تھی، 18 دسمبر 2023 کو اسکول چھوڑنے سے متعلق ایک ماہ کا نوٹس دیا، ایک ماہ بعد 18 جنوری 2024 کو اسکول چھوڑ دیا، اب 19 مارچ 2024 تک اسکول والوں نے میری بیٹی کی ایک ماہ (18 دسمبر تا 18 جنوری) کی تنخواہ ادا نہیں کی، جب کہ کسی بھی ملٹی نیشنل کمپنی میں ایک ماہ کے نوٹس کے بعد کمپنی چھوڑنے سے قبل سارے واجبات ادا کر دیے جاتے ہیں۔

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  " اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تین آدمی ایسے ہیں  کہ قیامت کے دن میں خود ان سے جھگڑوں گا،  ایک وہ شخص  ہے جس نے میرے نام کی قسم کھائی پھر وہ قسم توڑ ڈالی،  دوسرا وہ آدمی ہے جس نے کسی آزادکو پکڑ کر فروخت کردیا پھر اس کی قیمت کھا گیا، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی کو مزدوری پر لگایا اور اس سے پورا کام لیا مگر اس کو مزدوری نہ دی۔"

ایک اور موقع پر فرمایا:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ   روایت کرتے ہیں کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " مزدور کو اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔(یعنی جب مزدور اپنا کام پورا کر چکے تو اس کی مزدوری فوراً دے دو، اس میں تاخیر نہ کرو)

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً اسکول انتظامیہ نے آپ کی صاحبزادی کی ایک ماہ کی تنخواہ اب تک نہیں دی تو یہ ظلم ہے، ان کا یہ فعل بالکل غلط ہے، ان کو بروقت اپنی ٹیچر کی تنخواہ ادا کر دینی چاہیے، اور اگر کسی مجبوری کے تحت تاخیر ہو رہی ہو تو پیشگی اس کی اطلاع ٹیچر کو کر دینی چاہیے؛ تا کہ پریشانی نہ ہو۔

اور اگر اسکول والے اپنے کسی ضابطہ کی بناء پر ایسا کر رہے ہوں تو اس ضابطہ کی تفصیل بتا کر مسئلہ کا حکم معلوم کر لیا جائے۔

مشکاۃ شریف میں ہے:

" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فأكل ثمنه ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره ،رواه البخاري". 

(كتاب البيوع،باب الإجارة،الفصل الأول،ج:2، ص:899،ط: المكتب الإسلامي،بيروت)

وفيه أيضاً:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه». رواه ابن ماجه."

(كتاب البيوع،باب الإجارة،الفصل الأول،ج:2، ص:900، ط: المكتب الإسلامي،بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101102

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں