بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سیدہ عورت کا غیرسید سے نکاح اورتفریق کا حکم


سوال

سیدہ عورت کانکاح غیرسیدسے جائز ہے ؟اوردوسری بات یہ کہ اگرنکاح ہوجائے تومعلوم ہونے پرجدائیگی اختیارکرنی ہوگی؟

جواب

سیدہ لڑکی کا نکاح اپنے ولی کی اجازت سے غیر سید مسلمان  لڑکے سے جائز ہے۔ اسی طرح اگرعاقلہ وبالغہ سیدہ لڑکی  اپنے ولی کی اجازت کےبغیر غیر سید لڑکے سے نکاح کرے تو  بھی  نکاح منعقد ہوجائےگا،لیکن  اگر لڑکا  اس لڑکی کا کفو نہ ہو (یعنی قریش کے علاوہ دیگر عرب قبیلہ کا یا عجمی قوم میں سے ہو، یا دین، دیانت، مال ونسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ نہ ) اور  ولی کو اس پر اعتراض ہوتو اولاد ہونے سے پہلے ولی بذریعہ عدالت اس نکاح کو ختم کروا سکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافًا لمالك (نسبًا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض.

(قوله: فقريش إلخ) القرشيان من جمعهما أب هو النضر بن كنانة فمن دونه، ومن لم ينتسب إلا لأب فوقه فهو غير قرشي والنضر هو الجد الثاني عشر للنبي صلى الله عليه وسلم فإنه محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، على هذا اقتصر البخاري والخلفاء الأربعة كلهم من قريش وتمامه في البحر. (قوله: بعضهم أكفاء بعض) أشار به إلى أنه لا تفاضل فيما بينهم من الهاشمي والنوفلي والتيمي والعدوي وغيرهم، ولهذا زوج علي وهو هاشمي أم كلثوم بنت فاطمة لعمر وهو عدوي قهستاني فلو تزوجت هاشمية قرشيا غير هاشمي لم يرد عقدها وإن تزوجت عربيا غير قرشي لهم رده كتزويج العربية أعجميا بحر وقوله لم يرد عقدها ذكر مثله في التبيين، وكثير من شروح الكنز والهداية، وغالب المعتبرات فقوله في الفيض القرشي لا يكون كفؤا للهاشمي كلمة لا فيه من تحريف النساخ، رملي.

(قوله: وبقية العرب أكفاء) العرب صنفان: عرب عاربة: وهم أولاد قحطان ومستعربة: وهم أولاد إسماعيل والعجم أولاد فروخ أخي إسماعيل، وهم الموالي والعتقاء والمراد بهم غير العرب وإن لم يمسهم رق سموا بذلك إما لأن العرب لما افتتحت بلادهم وتركتهم أحرارا بعد أن كان لهؤلاء الاسترقاق، فكأنهم أعتقوهم، أو لأنهم نصروا العرب على قتل الكفار والناصر يسمى مولى، نهر." 

(رد المحتار علی الد المختار ،کتاب النکاح ، ‌‌باب الكفاءة 3/ 86 ط: سعید)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

" سید اگرکسی گوجر کی لڑکی سے نکاح کر لے تو کفاءت کی وجہ سے اس نکاح کو ناجائز نہیں کہاجائے گا ، ہاں  ! سید کی لڑکی اگر بغیر ولی کی اجازت کے کسی گوجر وغیرہ سے نکاح کر لے تو اس کو ناجائز کہاجائے گا،کفاءت کی رعایت لڑکی کے حق میں ہے ،یہ شریعت کا مسئلہ ہے فقہ کی کتابوں میں لکھاہوا ہے۔فقط واللہ اعلم."

(کتاب النکاح باب الکفاءۃ (625/11)ط  دارالافتاءجامعہ فاروقیہ کراچی) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407101413

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں