بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ کی زکات


سوال

 میں بنک میں زرعی قرضہ جات کے شعبہ سے وابستہ ہوں اور والدین کے ساتھ الحمدللہ رہائش پذیر ہوں، تنخواہ کا ایک معقول حصہ والدین کو ہر ماہ پیش کر دیتا ہوں۔ میں نے اپنی بیوی کا زیور بیچ کر اور کچھ پیسے خود سے شامل کرکے 2020 میں ایک پلاٹ لیا تھا ،جس کی مالیت اس وقت 25لاکھ تھی اور آجکل 45 لاکھ کے قریب ہے، اس کو بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں، اس کے علاوہ اکاؤنٹ میں 2-3لاکھ سے زیادہ پیسے کبھی نہیں ہوئے ، گزشتہ سال ایک پلاٹ کی فائل بعوض 3لاکھ لی جس کی قسط 20ہزار ماہانہ ہے اور سال بعد 1-1 لاکھ دینا ہے، کل مالیت 23 لاکھ ادا کرنی ہے۔ اسکے علاوہ کوئی پلاٹ گاڑی وغیرہ ملکیت نہیں ہے، صدقہ و خیرات حسب توفیق ہر ماہ کرتا ہوں۔

جواب

جس پلاٹ کو بیچنے کي نيت سے  نہیں   خريدا بلكہ  استعمال كي نيت سے خريدا ہو،وہ مال تجارت نہیں ہے ،ا س لیے  اس پر زکوۃ نہیں ہے اور جو دوسرا پلاٹ  قسطوں پر لیا ہے ،وہ اگر تجارت کی نیت سے نہیں لیا ہے تو ا س پر بھی زکوۃ نہیں ہے اور اگر سرمایہ  كاری كی طور پر خريداتھا كہ مستقبل ميں اچھا دام لگے تو فروخت کیا جائے گا،تو پھر ہر سال کی مالیت پر زکات آئے گی،اور ایک سال کی قسط اس مالیت سے منھا کر کے زکات کا حساب لگایا جائے گا اور بینک میں جو دو تین لاکھ روپے ہیں ان پر زکوۃ ہے  جس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ بینک میں مثلا تین لاکھ روپے ہیں اور جو پلاٹ لیا ہےوہ استعمال کے لیے لینے کی صورت میں  اس کی اس سال ایک لاکھ روپے بطور قسط کے ادا کرنے ہیں تو ایک سال کی قسطیں اس تین لاکھ میں سے منہا کرلیں اور دو لاکھ کی زکوۃ دے دیں اور اگر بیچنے کی نیت سے لیا تو اس کی موجودہ مالیت کی  بھی زکاۃ دینی ہوگی ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة."

(كتاب الزكاة،فصل أموال التجارة،فصل صفة الواجب في أموال التجارة،ج2،ص21،ط:مطبعة شركة المطبوعات العلمية)

الدر المختار  ميں هے :

"والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة."

(کتاب الزکات،‌‌باب السائمة،ص128،ط: دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے :

"ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع ‌وجوب ‌الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا."

(كتاب الزكاة،فصل شرائط فرضية الزكاة،ج2، ص6،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100002

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں