بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

دو شریکوں میں سے ہر ایک شریک ایک ایک سال کاروبار سنبھالے گا اور نفع نقصان سب کاروبار سنبھالنے والے کا ، مذکورہ شرکت کا حکم


سوال

۱۔دو آدمیوں نے مشترکہ طور پر سرکاری دکان دس سال کی لیز پر کرایہ پر لی ہے ، جس کا کرایہ چھ ماہ کا پچاس ہزار روپے مقرر ہے ، دونوں نے اس دکان میں آدھے آدھے پیسے ملا کر مشترکہ کاروبار شروع کیا اور آپس میں یہ طے کیا کہ ایک شریک ایک سال ایک دکان چلائے گا اور نفع و نقصان سب اس کا اور دوسرا شریک دوسرے سال دکان چلائے گا اور نفع و نقصان سب اسی کا ۔

۲۔مذکورہ طریقہ کوئٹہ میں بہت رائج ہے، اس میں اکثر یہ ہوتا ہے بعض سامان ذاتی ہوتا ہے اور بعض مشترکہ ،نیز کبھی دکان کرایہ کی ہوتی ہے اور کبھی کسی ایک شریک کی ، جب دکان ذاتی ہوتی ہے تو دکان کا مالک جو کہ شریک ہوتا ہے اس دکان کا کرایہ بھی لیتا ہے ۔

شرعی طورپر راہ نمائی فرمائے کہ مذکورہ طریقہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو طریقہ کار ذکر کیا گیا ہے کہ دو شخص مشترکہ طورپر دکان کرایہ پر لیتے  ہیں اورایک سال ایک شخص کاروبار کرتا ہے ، نفع ونقصان سب اسی کا ہوتا ہے اور دوسرے سال دوسرا کام کرتا ہے اور نفع ونقصان سب اس کا ہوتا ہے ، یہ صورت اس وقت جائز ہوگی جب دونوں اپنے اپنے ذاتی اموال پر کاروبار کریں ، سرمایہ ہر ایک کا جداگانہ ہو، مشترک نہ ہو ۔

لیکن اگر سامانِ تجارت مشترکہ ہو تو مذکورہ بالا صورت شراکت داری کی ہوگی اور شراکت داری کی صورت میں ایک شریک دوسرے سے لاتعلق نہیں ہوسکتا ، شراکت داری میں نفع فیصد کے اعتبارسے اور نقصان میں سرمائے کے بقدر شرکت ضروری ہوتی ہے ۔

۲۔ دو شریک کاروبار کریں اور جگہ /دکان کسی ایک شریک کی ہوتو اس کے لیے اپنے شریک سے اس دکان کا کرایہ وصول کرنا جائز نہیں ہے ،ہاں کاروبار سے حاصل ہونے والے نفع میں اس کا حصہ زیادہ طے کیا جاسکتا ہے ۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(ومنها): أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة. (ومنها): أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح."

(كتاب الشركة، فصل فى بيان شرائط انواع الشركة، ج:6، ص:56، ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو شرطا العمل عليهما جميعًا صحت الشركة، وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدًا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج. وإن عمل أحدهما ولم يعمل الآخر بعذر أو بغير عذر صار كعملهما معًا، كذا في المضمرات. ولو شرطا كل الربح لأحدهما فإنه لايجوز، هكذا في النهر الفائق. اشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز و الشرط في حق الوضيعة باطل، فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الشركة، الفصل الثاني في شرط الربح، ج:2، ص:320، ط:مكتبه رشيديه)

بدائع الصنائع ميں ہے :

’’( وأما ) عندنا فالربح تارة يستحق بالمال وتارة بالعمل وتارة بالضمان على ما بينا ، وسواء عملا جميعا أو عمل أحدهما دونالآخر ، فالربح بينهما يكون على الشرط ؛ لأن استحقاق الربح في الشركة بالأعمال بشرط العمل لا بوجود العمل ، بدليل أن المضارب إذا استعان برب المال استحق الربح ، وإن لم يوجد منه العمل ؛ لوجود شرط العمل عليه ، والوضيعة على قدر المالين ؛ لما قلنا ، وإن شرطا العمل على أحدهما ، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح ؛ جاز ، والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله ، وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز ؛ لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال.ولا عمل ولا ضمان ؛ وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة وإن كان المالان متفاضلين ، وشرطا التساوي في الربح فهو على هذا الخلاف أن ذلك جائز عند أصحابنا الثلاثة إذا شرطا العمل عليهما ، وكان زيادة الربح لأحدهما على قدر رأس ماله بعمله ، وأنه جائز ، وعلى قول زفر لا يجوز ولا بد أن يكون قدر الربح على قدر رأس المالين عنده ، وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي رأس ماله أقل ؛ جاز ، ويستحق قدر ربح ماله بماله والفضل بعمله ، وإن شرطاه على صاحب الأكثر لم يجز ؛ لأن زيادة الربح في حق صاحب الأقل لا يقابلها مال ولا عمل ولا ضمان.‘‘

(فصل فی بیان شرائط جوازانواع الشرکۃ،ج۔۶،ص۔۶۲،ط،دارالکتب العلمیۃ)

مجمع الزوائد میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ‌صفقتين في صفقة واحدة»."

(باب ما جاء فی الصفقتین فی صفقۃ،ج۔۴،ص۔۸۴،ط۔مکتبۃ القدسی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں