بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سیونگ اکاونٹ پر ملنے والے منافع کوضرورت مندوں کو دینے کی نیت سے وصول کرنے کا حکم


سوال

میرا تعلق ایک کارمینیو فیکچرنگ کمپنی سے ہے میری کمپنی ہر سالWPPF (یعنی ملازمین کا منافع میں حصہWorkers Profit Participation)کی مد میں کچھ رقم کمپنی کےورکرز  (ملازمین) کے درمیان تقسیم کرتی ہے ،کمپنی اپنے سالانہ پرافٹ کا کچھ حصہ (جیسا کہ پانچ فیصد) نکال کر ایک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرتی ہے، اس کمپنی کے اکاؤنٹ کو کمپنی کے ٹرسٹی جن میں ایڈمن فنانس اور سی بی اے کے نمائندے شامل ہوتے ہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں، اس اکاؤنٹ کے پرافٹ کا کچھ حصہ گورنمنٹ اور کچھ حصہ ورکرز میں تقسیم ہوتا ہے، پچھلے کچھ سالوں سے میری کمپنی نے گورنمنٹ کے پیسے گورنمنٹ کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں کروائے کیوں کہ اس رقم پر عدالت میں کیس چل رہا ہے تو اس لیے ہماری کمپنی کے ٹرسٹیز نے اس رقم کو سیونگ اکاؤنٹ جو کہ ایک کنوینشنل بینکConventional Bankمیں موجود ہے جمع کروا دیا جس کے نتیجے میں اس رقم پر انٹرسٹ جمع ہو گیا ،گورنمنٹ پر کیس کی وجہ سے وہ رقم ابھی تک میری معلومات کے مطابق شاید بینک میں موجود ہےپراس جمع ہونے والی  انٹرسٹ کی رقم کو کمپنی کے ٹرسٹیز نے تمام کمپنی کے ملازمین میں بانٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سوال میرا یہ ہے کہ کیا ہم کمپنی ملازمین کنوینشل بینک میں جمع ہونے والی  انٹرسٹ  کی رقم کو خرچ کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں خرچ کر سکتے تو کیا ہم ا س رقم کو اپنے کسی انتہائی ضرورت مند مسلمان بھائی کو دے سکتے ہیں؟ یا پھر اگر ہم سمجھتے ہیں تو اپنے سگے ضرورت مند بہن یا بھائی کو دے سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کے ٹرسٹیز نے گورنمنٹ کے پیسے  چوں کہ  ایک کنوینشنل بینک میں  موجود  سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کروائے تھے،اوربینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا ہی جائز نہیں ہے؛کیوں کہ اس میں سودی معاہدہ کرنا پڑتاہے، اور  سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،اس لیے مذکورہ کمپنی کے ٹرسٹیز   کا اپنے ملازمین کے درمیان بینک کی طرف سے سیونگ اکاونٹ میں جمع کرنے والی رقم پر ملنے والے منافع کو تقسیم کرنا درست نہیں ہے،بلکہ  کمپنی کے ٹرسٹیز پر لازم ہےکہ   مذکورہ کمپنی کے ٹرسٹیز جلد از جلدمذکورہ اکاونٹ کو بند کروادے،اور صرف اپنی اصل رقم اکاونٹ سے نکال لے،جمع ہونے والی انٹرسٹ کی رقم کو نکال کر مذکورہ کمپنی کے ٹرسٹیز کا اپنے ملازمین  کوتقسیم کرنا درست نہیں ہے؛ کیوں کہ جس طرح سود کھانا ناجائز ہے، اسی طرح سودی رقم وصول کرنا بھی جائز نہیں ہے،چاہے اپنے استعمال کی نیت ہو یا کسی ضرورتمند  فرد کو دینے کی نیت ہو۔

اسی طرح مذکورہ کمپنی کے ملازمین کا بھی   سیونگ اکاونٹ میں جمع کرنے والی رقم پر ملنے والے منافع کومذکورہ کمپنی کے ٹرسٹیز سے لینا (خواہ اپنے استعمال کے لیےہویاکسی ضرورت مندکو دینے کے لیے ہو)جائز نہیں ہے۔

بنی اسرائیل کی من جملہ قباحتوں میں سے ایک قباحت سود کا لینا بھی تھا،چناں چہ ارشادِ باری ہے:

"{وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا}."[النساء: 161]

ترجمہ:"  اور بہ سبب اس کے کہ وہ سود لیا کرتے تھے، حال آں کہ ان کو اس سے ممانعت کی گئی تھی اور بسبب اس کے کہ وہ لوگوں کے مال ناحق طریقہ سے کھاجاتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کے لیے جو ان میں سے کافر ہیں دردناک سزا کا سامان کر رکھا ہے۔" (از بیان القرآن )

تفسير الطبری میں ہے:

"وقوله:"وأخذهم الربا"، وهو أخذهم ما أفضلوا على رءوس أموالهم، لفضل تأخير في الأجل بعد مَحِلِّها، وقد بينت معنى"الربا" فيما مضى قبل، بما أغنى عن إعادته."

(وقوله:وأخذهم ‌الربا،391/9،ط : دار التربية والتراث)

تفسير القرطبی میں ہے:

"فيه مسألتان: الأولى- قوله تعالى:" فبظلم من الذين هادوا" قال الزجاج: هذا بدل من"فبما نقضهم". والطيبات ما نصه في قوله تعالى:" وعلى الذين هادوا حرمنا كل ذي ظفر" [الانعام: 146] «1». وقدم الظلم على التحريم إذ هو الغرض الذي قصد إلى الإخبار عنه بأنه سبب التحريم. (وبصدهم عن سبيل الله) أي وبصدهم أنفسهم وغيرهم عن اتباع محمد صلى الله عليه وسلم. (وأخذهم الربوا وقد نهوا عنه وأكلهم أموال الناس بالباطل) كله تفسير للظلم الذي تعاطوه، وكذلك ما قبله من نقضهم الميثاق وما بعده، وقد مضى في" آل عمران" «2» أن اختلاف العلماء في سبب التحريم على ثلاثة أقوال هذا أحدها."

(سورة آل عمران،136/4،ط : دار الكتب المصرية)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144507101930

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں