بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ستر ہزارمرتبہ کلمہ پڑھنے کا طریقہ


سوال

 ستر ہزار مرتبہ کلمہ کا ورد کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اخلاص کے ساتھ کلمہ پڑھنے والے کی مغفرت کی روایات موجود ہیں، اگرچہ ایک مرتبہ بھی پڑھا ہو، کلمہ پڑھنا فی نفسہ خود ایک بڑا عمل ہے اور جنت میں داخلہ کا باعث ہے،چناں چہ ستر ہزار مرتبہ  یا کسی اور خاص مقدار میں پڑھنے کا ذکر حدیث میں موجود نہیں ہے ، البتہ یہ بزرگوں کا مجرب عمل ہے، اور اسکے پڑھنے کا کوئی خاص طریقہ منقول نہیں۔

نوٹ: اس سے متعلقہ مسئلہ دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:سوا لاکھ مرتبہ کلمہ پڑھنا

صحیح بخاری میں ہے:

’’عن أبي هريرة أنه قال: قيل: يا رسول الله، من أسعد الناس بشفاعتك يوم القيامة؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد ظننت - يا أبا هريرة - أن لا تسألني عن هذا الحديث أحد أول منك، لما رأيت من حرصك على الحديث، أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة، ‌من ‌قال ‌لا ‌إله ‌إلا ‌الله، ‌خالصا من قلبه، أو نفسه۔‘‘

ترجمہ:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔

(باب الحرص علی الحدیث،رقم:99)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

’’قال الشيخ محيي الدين بن العربي: أنه بلغني «عن النبي صلى الله عليه وسلم أن من قال: ‌لا ‌إله ‌إلا ‌الله ‌سبعين ‌ألفا ‌غفر ‌له، ‌ومن ‌قيل ‌له ‌غفر ‌له ‌أيضا» ، فكنت ذكرت التهليلة بالعدد المروي من غير أن أنوي لأحد بالخصوص، بل على الوجه الإجمالي، فحضرت طعاما مع بعض الأصحاب، وفيهم شاب مشهور بالكشف، فإذا هو في أثناء الأكل أظهر البكاء فسألته عن السبب فقال: أرى أمي في العذاب فوهبت في باطني ثواب التهليلة المذكورة لها فضحك وقال: إني أراها الآن في حسن المآب، قال الشيخ: فعرفت صحة الحديث بصحة كشفه، وصحة كشفه بصحة الحديث۔‘‘

(ص:879،ج:3،ط: دار الفكر،بيروت،لبنان)

ترجمہ: شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہم تک پہنچی ہے کہ جو ستر ہزار مرتبہ لَاۤ اِلٰه اِلَّا الله پڑھے یا پڑھ کر کسی کو بخش بھی دے تو جس کو ثواب بخشا جائے گا اس کی مغفرت ہوجائے گی اور پڑھنے والے کو بھی بخش دیا جائے گا۔ تو میں اس کے بہت سے مجموعہ اپنے پاس پڑھ کر رکھ لیے، ایک مرتبہ ایک دعوت میں بعض ساتھیوں کے ساتھ جمع ہوا تو وہاں  دسترخوان پر ایک نوجوان آیا جس کا کشف مشہور تھا، اس نے کھانا شروع کردیا، اتنے میں کھاتے کھاتے زور سے رونے لگا، وہ رویا تو میں نے پوچھا  تم رو کیوں رہے ہو حالاں کہ دسترخوان پر اتنے عمدہ عمدہ کھانے کھا رہے ہو؟اس نے کہا:  میں اپنی ماں کو عذاب میں دیکھ رہاہوں، میں نے اس کی ماں کو ستر ہزار  لااِلٰه اِلَّا الله  کا ثواب بخش دیا۔  تو وہ نوجوان زور سے ہنسا تو میں  نے پوچھا تم کیوں ہنسے؟ اس نے کہا: میں اپنی ماں کو جنت میں دیکھ رہا ہوں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اس کے کشف سے میرا اس حدیث کی صحت پر یقین اور بڑھ گیا اور حدیث کی صحت سے اس کے کشف پر یقین اور بڑھ گیا کہ یہ واقعی ولی اللہ اور صاحبِ کشف ہے۔

اسی طرح علامہ قرطبی نے اس کو نقل کیا ہے۔

تاہم احادیثِ مبارکہ کی تصحیح وتضعیف کشف وغیرہ کی وجہ سے نہیں ہوسکتی ہے،  اس لیے اس روایت کو  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا درست نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

 


فتوی نمبر : 144509101073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں