بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ساٹن کا کپڑا پہننے کا حکم


سوال

کیا انسان ساٹن کا کپڑا پہن سکتا ہے؟رہنمائی کیجئے۔

جواب

واضح رہے کہ ہر ایسا کپڑا جس کا تانا بانا دونوں ریشم کے ہوں یا بانا ریشم کا ہو یا تانا بانا دونوں میں ریشم شامل ہو، اور مجموعی طور پر ریشم غالب ہو وہ مردوں کے لیے پہننا حرام ہے، اس کے علاوہ کپڑا یا مصنوعی ریشم کا استعمال  جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ میں ساٹن کے کپڑے کی ابتداء شروع شروع میں چین کے علاقوں سے ہوئی تھی ،جو کہ ریشم سے بنائے جاتے تھے ،لیکن بعد میں اس میں تبدیلی آتے آتے اب یہ کپڑا کپاس وغیرہ سے بھی زیادہ طور پر بنایا جاتا ہے ،اس لیے اگر اب یہ صرف کپاس وغیرہ سے  ہی بنتا ہو ،تو اس کے استعمال میں کوئی ممانعت نہیں ،لیکن   اگر ساٹن کے کپڑوں میں اب بھی ریشم وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہو ،تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر تانا بانا دونوں ریشم کے ہوں یا بانا ریشم کا ہو یا تانا بانا دونوں میں ریشم شامل ہو، اور مجموعی طور پر ریشم غالب ہو وہ مردوں کے لیے پہننا حرام ہے،عورتوں کے لیے اس کا پہننا جائز ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 130):

"(وأما) .الذي ثبت حرمته في حق الرجال دون النساء فثلاثة أنواع منها لبس الحرير المصمت من الديباج والقز لما روي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج وبإحدى يديه حرير وبالأخرى ذهب، فقال: هذان حرامان على ذكور أمتي حل لإناثها». وروي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى سيدنا عمر - رضي الله تعالى عنه - حلة فقال: يا رسول الله! كسوتني حلة وقد قلت في حلة عطارد إنما يلبسه من لا خلاق له في الآخرة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني لم أكسكها لتلبسها، وفي رواية: إنما أعطيتك لتكسو بعض نسائك»".

الاختيار لتعليل المختار (ص: ٤٩):

’’لا بأس بلبس ماسداه إبريسم و لحمته قطن أو خز‘‘.

تنویر الأبصار مع الدر المختارمیں ہے:

’’و يحل ( لبس ما سداه ابريسم و لحمته غيره) ككتان و قطن و خز؛ لأن الثوب إنما يصير ثوباً بالنسج، و النسج باللحمة، فكانت هي المعتبرة دون السدي‘‘.

و في الشامية: ’’( قوله: و لحمته غيره) سواء كان مغلوباً أو غالباً أو مساوياً للحرير، و قيل: لا بأس إلا إذا غلبت اللحمة علي الحرير، و الصحيح الأول‘‘.

( شامي، كتاب الحظر و الإياحة، ٦/ ٣٥٦، ط: سعيد)

تفسیرِ کبیر للرازی میں ہے :

"وجمع بقوله: (ما فى الأرض جمیعًا) جمیع المنافع، فمنها ما یتصل بالحیوان والنبات والمعادن والجبال، ومنها ما یتصل بضروب الحرف والأمور التي استنبطها العقلاء، وبین تعالی أن کل ذلك إنما خلقها کي ینتفع بها کما قال: (وسخر لکم ما فى السماوات وما فى الأرض)." (الجاثیۃ :۱۳)

(سورۃ البقرۃ:29، ج:2، ص:379،  ط: دار إحیاء التراث العربی بیروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144412100902

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں