بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سستی دوا خرید کر اصل قیمت پر بیچنا


سوال

میں دواؤں کا کاروبار کرنا چاہتا ہوں، لیکن دوا دو طریقہ طریقے سے مارکیٹ میں دستیاب ہے، ایک تو کمپنی براہ راست دیتی ہے اور وہی دوا مارکیٹ میں کم قیمت  میں بھی ملتی ہے کم قیمت ہونے کی وجہ یہ ہے یا تو وہ سیل ریپریزنٹس  سستے داموں بیچ کر اپنی سیلز کی ٹارگٹ کو پورا کرتے ہیں یا پھر کسی اور طریقے سے سستے داموں اس ایک شہر سے دوسرے شہر میں بیچی جاتی ہے مارکیٹ کمپٹیشن کی وجہ سے لوگ سستی دوا خرید کر اس کو اصل قیمت پر بیچتے ہیں کیا ہول سیل یا ریٹیل کی دکان پر سستی دوا خرید کر اس کو پوری قیمت پر بیچنا صحیح ہے؟

جواب

جب ایک شخص کوئی چیز خرید لیتا ہے، تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ وہ کم قیمت پر بیچے یا زیادہ قیمت پر بیچے، اگر خرید و فروخت کرنے والے (یعنی بائع اور مشتری)  ایک قیمت پر راضی ہوجائیں، تو اس قیمت پر معاملہ کرنا درست ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کم قیمت پر دوا خرید کر اس کی اصل قیمت پر بیچنا جائز ہے۔

ہدایہ میں ہے:

"قال: "ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة:275]."

(كتاب البيوع، ج:3، ص:24، ط:دار احياء التراث العربي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"للمالك ‌أن ‌يتصرف في ملكه أي تصرف شاء."

(كتاب الدعوى، ج:6، ص:264، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506102716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں