بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سرمایہ پر متعین نفع لینا ناجائز ہے


سوال

سہیل کی ایزی پیسہ کی شاپ ہےنویدنےسہیل کودولاکھ روپےدیےاورکہاکہ آپ کی مرضی جوکرونفع ہونقصان ہوبہرصورت مجھےماہانہ پانچ ہزاردیاکروکیاشرعاً اس طرح کامعاملہ جائزہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ معاہدہ سودی ہونے کی بنا پر ناجائز ہے۔

سرمایہ کاری کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تجارت کرنے والے کے پاس سرمایہ لگا کر اس مشترک چیز سے جو نفع حاصل ہو، اس کا فیصد آپس کی رضامندی سے طے کر لیا جائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما شركة العقود فأنواع ثلاثة: شركة بالمال، وشركة بالأعمال وكل ذلك على وجهين: مفاوضة وعنان، كذا في الذخيرة. وركنها الإيجاب والقبول وهو أن يقول أحدهما: شاركتك في كذا وكذا ويقول الآخر: قبلت، كذا في الكافي، ويندب الإشهاد عليها، كذا في النهر الفائق. وشرط جواز هذه الشركات كون المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة، كذا في المحيط وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع. وحكم شركة العقد صيرورة المعقود عليه وما يستفاد به مشتركا بينهما، كذا في محيط السرخسي."

( كتاب الشركة، الباب الأول في بيان أنواع الشركة، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ج2، ص310، رشيدية)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101920

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں