بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سرمد نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

کیا ’’محمد سرمد‘‘  نام رکھ  سکتے ہیں؟ اس کے معنی ہیں:  ہمیشہ  رہنے والا۔ جب کہ ہمیشہ رہنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

جواب

"سرمد " کے معنی ہیں:کسی چیز کا قائم دائم  ہونا۔

یہ نام رکھا جاسکتا ہے، جیساکہ ’’خالد‘‘ (بمعنٰی ہمیشہ رہنے والا) نام رکھا جاسکتاہے، اور  مشہور صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔

اولاً تو ان دونوں ناموں میں ہمیشہ سے ہونے اور ہمیشہ تک رہنے کا معنیٰ نہیں ہے، اللہ پاک نے اہلِ جنت کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اہلِ جنت انسان ہی ہیں، اسی طرح قرآنِ پاک میں دن اور رات کی نسبت ’’سرمد‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، اور دن اور رات مخلوق اور حادث ہیں۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ یہاں بطور نیک فالی کے قائم دائم رہنا مراد ہے نہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے۔  اپنی ذات کے اعتبار سے ازلی اور ابدی ذات  صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

تیسری بات یہ کہ ’’سرمد‘‘ اللہ تعالیٰ کے ان ناموں میں شامل نہیں جن کا استعمال لوگوں کے لیے ممنوع ہے ۔وہ اسماءِ حسنیٰ جو باری تعالی کے اسمِ ذات ہوں یا صرف باری تعالی کی صفاتِ مخصوصہ کے معنی ہی میں استعمال ہوتے ہوں، یعنی  ان اسماء کا مبدأ اشتقاق ہی غیر میں نہیں پایا جاتا تو  ان کا استعمال غیر اللہ کے لیے کسی حال  میں بھی جائز نہیں، مثلاً :"اللہ، الرحمن،القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق، الباری، المصور، الغفار، القھار، التواب، الوھاب، الخلاق، الرزاق، الفتاح،القیوم، الرب، المحیط، الملیک، الغفور، الاحد، الصمد، الحق، القادر، المحیی۔

الصحاح في اللغة - (1 / 314):

"سرمد:السرْمَدُ: الدائم".

تاج العروس من جواهر القاموس - (8 / 190):

"سرمد : ( السَّرْمَدُ : الدائِمُ ) ، قاله الزّجاج . وعليه اقتصر الجوهريّ وغيره وفي حديث لقمانَ : ( جَوَّابُ ليلٍ سَرْمَد ) السَّرْمَد : الدائم الّذِي لا يَنْقَطِع . ومثله في النهاية .

 وقال الخليل : السَّرْمَدُ : هو دَوَامُ الزَّمَانِ ، واتِّصالُه من لَيْلٍ أَو نارٍ . قله المرزُوقيُّ في ( شرْح الحماسة ) . ومثله في اللِّسَان".

لسان العرب - (3 / 212):

"( سرمد ) السرمد دوام الزمان من ليل أو نهار وليل سرمد طويل وفي التنزيل العزيز: {قل أرأيتم إن جعل الله عليكم النهار سرمدًا} قال الزجاج: السرمد الدائم في اللغة، وفي حديث: لقمان جواب ليل سرمد. السرمد: الدائم الذي لاينقطع". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں