بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سرکاری زمین میں مسجد ،مدرسہ بنانے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسلہ ذیل میں  کہ:

ہماری کالونی میں مسجد کے مضافات میں ایک جگہ بہت طویل مدت سے خالی پڑی ہوئی تھی ، اس جگہ پر دوسروں کا قبضہ ہونے کے اندیشے میں کچھ لوگوں  کی طرف سے  یہ طے پایا کہ  اس جگہ کو مسجد کے  لیے خریدا جائے ، جب اس کی تحقیق کی گئی تو دو باتیں سامنے آئیں، پہلی یہ کہ یہ جگہ کسی کی ذاتی ملکیت ہے، جب اس شخص کی تلاش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ شخص فوت ہو چکا ہے، اور اسکے وارثین کو اس جگہ کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، کہ ان کے اجداد کی کوئی ملکیت وہاں موجود ہے، یہ پہلی بات مکمل ہوئی ۔

اب دوسری بات یہ سامنے آئی کہ یہ جگہ (ڈی۔ ڈی۔اے) حکومت دہلی  کی ہے ، اور متعلقہ محکمہ اسے فروخت نہیں کر رہا، لوگوں کی کافی کوشش کے با وجود محکمے میں کسی شخص نے یہ مشورہ دیا ، کہ آپ اس جگہ پر قبضہ کر لیں تا کہ محکمہ جب بھی اس جگہ کو فروخت کرے یا اس جگہ کو نیلام کرے تو آپ کو ہی فروخت کرے، اسکے بعد علاقے کے کچھ علماء نے یہ تجویز کیا کہ ہم اس جگہ پر قبضہ کر کے یہ حیلہ اپنا رہے ہیں ، کہ اس جگہ کو محکمے سے خرید سکیں ۔

1)تو کیا اس  خالی جگہ پر قبضہ کر کے اور اس کو مکتب ، مسجد، مدرسہ، یادینی امور کے  لیے استعمال کرنا درست ہے ؟

2)اور اگر محکمہ اس جگہ کو نیلام نا کرنا چاہے، تو اس طرح اوپر بیان کیا گیا حیلہ اپنا کر خرید نا درست ہے؟براہ کرم جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

کسی بھی جگہ پر مسجد   بنانے کے  لیے شرط یہ ہے کہ اس جگہ کو  مالک سے خرید کر وقف کیا جائے یا مالک خود سے اس جگہ کو مسجد کے  لیے وقف کردے،نیز سرکاری زمین کو سرکار کی اجازت کے بغیر اور کسی کی ذاتی زمین کو اس کی اجازت کے بغیر غصب کرکے اورناجائز قبضہ کرکے اس پر مسجد یا وضو خانہ بنانا جائز نہیں ہے۔

1)لہذا صورتِ مسئولہ   جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ زمین (ڈی ۔ڈی ۔اے)حکومتِ دہلی کی ہے ،تو بغیر سرکار کی اجازت کے مذکورہ زمین پر مسجد بنانا جائز نہیں ہے ۔

2) البتہ اگر وہاں کا عرف یہی ہے کہ اگر پہلے سے قبضہ پایا جائے اور  ایسے قبضے کی وجہ سے قابض کو ہی حکومت بیچ دیتی ہو ،تو پھر  اس صورت میں مذکورہ حیلہ کرنے کی گنجائش ہو گی ، ورنہ نہیں ۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين".

(باب الغصب والعارية، ج:1، ص:254، ط:قديمي)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"‌غصب ‌من آخر دارا أو أرضا فبنى فيها بناء أو زرع فيها زرعا فقلع صاحبها الزرع وهدم البناء لا يضمن بشرط أن لا يكسر خشب الغاصب ولا آجره ونحو ذلك كذا في الحاوي للفتاوى."

(کتاب الغصب ،الباب الثاني المغصوب إذا تغير بعمل الغاصب أو غيره،ج:5 ،ص:125 ،ط:دارالفکر)

غنیۃ المستملی میں ہے ؛

"وذکر فی الواقعات: رجل بنی مسجدًا علی سور المدینة لا ینبغي أن یصلي فیه لأنه حق العامة فلم یخلص للہ تعالی کالمبني في أرض مغصوبة․․․ ولو فعله بإذن الإمام ینبغي أن یجوز فیما لا ضرر فیه یعني: في مسجد السور لأنه نائبهم."

(کتاب الوقف ،ص:615،ط: مکتبه اشرفیه)

فتاوی  شامی میں ہے :

"جعل شيء أي: جعل الباني شیئًا من الطریق مسجدًا لضیقه ولم یضر بالمارین جاز لأنهما للمسلمین۔۔ قولہ: ”لضیقہ ولم یضر بالمارین“ أفاد أن الجواز مقید بهذین الشرطین."

(كتاب الوقف،مطلب في الوقف إذا خرب ولم يمكن عمارته،ج:4،ص:377 ،ط:سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"أشار بإطلاق قوله: و يأذن للناس في الصلاة أنه لايشترط أن يقول: أذنت فيه بالصلاة جماعة أبداً، بل الإطلاق كاف ... و قد رأينا ببخارى و غيرها في دور سكك في أزقة غير نافذة من غير شك الأئمة و العوام في كونها مساجد ... بني في فنائه في الرستاق دكاناً لأجل الصلاة يصلون فيه بجماعة كل وقت فله حكم المسجد".

(كتاب الوقف، فصل في أحكام المساجد، 5/ 241 - 250، ط: رشيدية)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"( ولو خرب ما حوله و استغني عنه يبقي مسجداً عند الإمام و الثاني) أبداً إلى قيام الساعة (و به يفتي)، حاوي القدسي".

(شامي، كتاب الوقف، مطلب في وجوب المسجد و غيره، 4/358، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے :

"(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح."

(كتاب الوقف ،‌‌مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة ،ج:4،ص:341،ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"فإن شرط الوقف التأبيد والأرض إذا كانت ملكا لغيره فللمالك ‌استردادها، وأمره بنقض البناء وكذا لو كانت ملكا له فإن لورثته بعده ذلك، فلا يكون الوقف مؤبدا."

(كتاب الوقف ،‌‌مطلب في استبدال الوقف وشروطه،ج:4،ص:390،ط:سعيد)

الاشباہ والنظائر لابن نجیم المصری ؒ میں ہے :

"‌‌القاعدة السادسة: ‌العادة ‌محكمة"

وأصلها قوله عليه الصلاة والسلام {ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن}۔۔۔۔

واعلم أن اعتبار العادة والعرف يرجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلا، فقالوا في الأصول في باب ما تترك به الحقيقة: تترك الحقيقة بدلالة الاستعمال والعادة."

(القاعدة السادسة :العادة ‌محكمة،ص:79 ،ط:دارالكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے :

"قاعدة: ‌العادة ‌محكمة ألفاظ الواقفين تبنى على عرفهم كما في وقف فتح القدير وكذا لفظ الناذر والموصي والحالف."

(كتاب الوصية ،‌‌باب الوصية للأقارب وغيرهم ،ج:6 ،ص:690 ،ط:سعيد)

کفایت المفتی میں ہے :

"سرکاری زمین پر بلااجازت مسجد بنانے کا حکم:

"سرکاری زمین پر بدون اجازت مسجد یا نماز کا چبوترا بنا لینا ناجائز ہے اور اجازت کے بعد بنا لینے میں کوئی حرج نہیں اگر وہ زمین مسلمانوں کو مسجد یا چبوترا بنانے کے لیے سرکار ہبہ کر دے تو وہ شرعا صحیح مسجد ہو جائے گی اور اس میں مسجد کا پورا ثواب ملے گا لیکن اگر زمین ہبہ نہ کرے اور اس کا سر  خط لکھوائے  تو اگر مسلمانوں کو کوئی زمین قطعی طور پر نہ مل سکتی ہو تو ایسی صورت میں پٹہ لکھ کر بھی زمین حاصل کرنا جائز ہوگا، مگروہ مسجد شرعی  مسجد نہ ہو گی، اس میں نماز پڑھنا تو جائز ہوگا مگر مسجد کا ثواب نہ ہوگا ۔"

(کتاب الوقف ،ج:7 ،ص:50 ،ط:دارالاشاعت)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"سرکاری زمین  میں  مسجد بنانا:

"جب کہ وہ زمین گورنمنٹ کی ملک ہے، اور اس کی حدود میں ہے تو مسجد بنانے کے لیے گورنمنٹ سے باقاعدہ اجازت حاصل کر لی جائے ،بلا اجازت مسجد بنانے میں  خطرہ وہ اندیشہ ہے شرعا بھی قانون بھی ۔"

(بکتاب الوقف ،باب احکام المساجد،ج:15 ،ط:ادارۃ الفاروق )

احسن الفتاویٰ میں ہے:

سرکاری زمین میں بلااجازت مسجد بڑھانا:

"حکومت پر مساجد کا انتظام اور تعمیر بقدرِ ضرورت فرض ہے ،لہذا اگر حکومت اپنا یہ فرض ادا نہیں کرتی ،توبلااذن حکومت زمین پر تعمیر جائز نہیں ۔فقط واللہ اعلم "

(کتاب الوقف ،باب المساجد،ج:6 ،ط:426 ،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144506100473

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں