بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی رقم کا حکم


سوال

 سرکاری ملازمین کے لیے گروپ انشورنس  سے متعلق سوال :

  معزز عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ دورانِ سروس فوت ہوجانے والے ملازمین کے ساتھ ساتھ جو  ریٹائر ہو چکے اور ہونے والے تمام ملازمین کو گروپ انشورنس اداکرے۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف دوران ملازمت فوت ہوجانے والے ملازمین کودی جاتی تھی۔

عرض یہ ہے کہ اس مہنگائی کے طوفان میں فلیٹ کی صورت میں گھر خریدنا بہت مشکل ہے اور 500 اسکوائر فٹ کے فلیٹ میں تین جوان بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں،  چار کمروں کے فلیٹ کے حساب سے گھر لینا ہمارے بس میں نہیں اور بینک سے سود لینا جائز نہیں ، اپنا چھوٹا  سا گھر بیچ کر اور قرضہ اٹھا کر بغیر سود کے کوئی ادھار دے ، اس کے علاوہ گورنمنٹ کی طرف سے گروپ انشورنس لینا جائز ہے یا نہیں؟  اگر لیتے ہیں تو قرضے کی صورت میں دے سکتے ہیں یا نہیں؟  دونوں صورتوں میں رہنمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس کے نام سے ملنے والی رقم کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر  مذکورہ فنڈ کی مد میں ملازم  کی تنخواہ سے کٹوتی نہیں ہوتی،  بلکہ حکومت اپنے طور پر ملازمین کا گروپ انشورنس کرواتی ہے ، یا ملازم کو  تنخواہ ملنے سے پہلے گروپ انشورنس کے نام  سے جبری کٹوتی  کرتی ہو ، اور ملازم کا براہِ راست انشورنس کمپنی سے کوئی واسطہ نہ ہو  اور بعد میں حکومت  خود   اپنے فنڈ میں اس رقم کو شامل کرکے  اضافہ کے ساتھ وہ رقم خود  ملازمین کو یا ان کے پس ماندگان کو   دے تو   یہ ملازمین یا ان کے  ورثاء کے حق میں سود نہیں ہوگا۔

البتہ  اگر گروپ  انشورنس کی مد میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے اختیاری طور پر  کٹوتی ہوتی ہو   یا ملازم کو خود انشورنس کمپنی سے وہ رقم وصول کرنا پڑتی ہو تو اس صورت میں  اس ملازم کے لیے حکومتی جمع کرائی رقم کے بقدر رقم لینا جائز ہوگا اور  اصل رقم سے زائد رقم  کو  ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200743

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں