بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

سرکاری باغ سے گملے لینا


سوال

ایک سرکاری ادارے کے ماتحت ایک مسجد ہے،جس کے باہر باغ تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں طرح طرح کے پھل و پھول لگے ہوئے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا کوئی عام شخص اس مسجد میں سے زائد گملے اپنے استعمال میں لا سکتا ہے؟

اگر نہیں تو کس سے اجازت لینی پڑے گی؟

کیا مسجد کے امام اور نائب امام کی اجازت کافی ہے یا ادارے سے اجازت لینی پڑے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ باغ پر  نہ امام صاحب کی ملکیت ہے اور نہ نائب امام کی ملکیت ہے، بلکہ اس پر سرکار  کی ملکیت ہے، لہذا سرکار  نے اگر مذکورہ ادارے کے سربراہ کو اس بات کا اختیار دیا ہو کہ وہ اس باغ میں سے گملے کسی کو قیمۃً  دے سکتا ہے، تو ایسی صورت میں متعلقہ ادارے کے سربراہ سے اجازت لینی ہوگی، اگر اگر سرکار نے اختیار نہ دیا ہو، تو ایسی صورت میں سرکار کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں لانے کی اجازت نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200334

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں