بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سرکاری مال کی خرید و فروخت / ٹھیکہ چھوڑنے پر رقم لینا


سوال

ہم لوگوں کی دوکان فورس کے یونٹ کے اندر ہے وہاں پر میرا بھائی فورس والوں کے  راشن کا جو ذمہ دار حوالدار ہوا کرتا ہے،  اس کے ساتھ بات چیت کرکے دودھ لیتا ہے،  پھر بازار مجھے جاکر فروخت کرتا ہے جو کہ تمام فوجیوں کا حق ہے، اس میں ان کے ساتھ کچھ افسر بھی شامل ہوتے ہیں حتیٰ کہ کبھی کبھی فل کرنل بھی ملے ہوتے ہیں، اور کہتا ہے کہ میں چپکے چپکے یہ کام نہیں کرتا ہوں سب ملے ہوئے ہیں سب افسر راضی ہیں تو اس میں حرام کہاں سے ہوگا کیونکہ فوج میں سب سے بڑا کرنل ہے وہ بھی تو ساتھ دے رہا ہے کیا یہ حرام ہوگا سب کے ساتھ کہ نہیں؟

سوال نمبر 2:  فوج میں سبزی اور فروٹ اور گوشت کے سالانہ ٹینڈر ہوا کرتے ہیں اس میں سب ٹھیکدار جمع ہو جاتے ہیں پھر میٹنگ ہوتی ہیں کہ فلاں جگہ میرا ٹھیکہ ہوگا فلاں میرا ہوگا جس میں کھبی کھبار بحث 2 ٹھیکدار کے بیچ میں آجاتی ہے پھر بڑے ٹھیکدار ان کو راضی کرنے کے لئے ان کو کہتے ہیں کہ آپ 1 کروڑ روپے لے لو اور یہ ٹھیکہ چھوڑ دو دوسرا ٹھیکدار اس کو 1 کروڑ دینے کا پابند ہو گا جس کے بعد وہ ٹھیکدار جتنا مرضی ریٹ فارم کے اوپر درج کرے اسکی مرضی ہے کیا یہ دوسرے ٹھیکدار کے لئے 1 کروڑ لینا جائز اور حلال ہے؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں جو اشیاء حکومت کی طرف سے فورس کے لئے مخصوص کی گئی ہوں ان کو چرا کر فروخت کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، چاہے کتنا ہی بڑا افسر اس میں ملوث ہو، کیوں کہ یہ ان کی ملکیت نہیں، اور  خریدنے والے کو کسی چیز کے بارے میں یقینی  معلوم ہو یا غالب گمان ہو کہ وہ چوری کی ہے یا  بیچنے والے کی نہیں ہے،  تو اس کے لیے اس کو  خرید نا  اوراستعمال کرنابھی  جائز نہیں ہے، اور اس کا منافع بھی حلال نہیں ہوگا۔

2۔ ٹھیکہ ، یہ حق مجرد ہے، اور حق مجرد کو چھوڑنے کا بدل لینا جائز نہیں۔

السنن الکبری   میں ہے:

" عن شرحبيل مولى الأنصار , عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من اشترى سرقةً وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها".

 (السنن الكبرى للبيهقي ، کتاب البیوع، باب كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم،5/ 548، ط: دار الكتب العلمية، بيروت )

         فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه".

(ردالمحتار، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد ، 5/99، ط: سعید)

 وفیہ أیضاً:

 الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لايطيب له ولا للمشتري منه.

 (قوله: الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريباً (قوله: ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئاً؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه".

 ( کتاب البیوع،باب البیع الفاسد ، مطلب الحرمۃ تتعدد،5/ 98 ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"وفي الأشباه: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة: المذهب عدم اعتبار العرف الخاص، لكن أفتى كثير باعتباره، وعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال."

(الدر المختار، کتاب البیوع، مطلب لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة، 518/4، ط:سعید)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لايجوز لأحد ‌أن ‌يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقدمة،‌‌ المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص27، ط: نور محمد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144308101622

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں