بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1444ھ 10 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

صارم، صنوان، ابیحہ، اکفہ اور آئرہ نام


سوال

صارم،  صنوان ، ابیحہ،  اکفہ،  ائیرہ ان ناموں کی معنی کیا ہے اور یہ نام لڑکی کا رکھ سکتے ہیں؟

جواب

’’صَارِم‘‘ کے معنی:  تیز   دھار  تلوار،  بہادر آدمی، ارادے کا پکا اور کرگزرنے والا آدمی کے آتے ہیں۔ یہ  نام لڑکی کا نہیں  ہے، لڑکے کا نام ہے، اس کے مادے "ص، ر، م" سے "اُصَیرِم" ایک صحابی کا لقب ہے، لیکن ایک  حدیث میں  مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے "اَصْرم" نام تبدیل کیا تھا، لہٰذا لڑکے کے لیے بھی بہتر ہوگا کہ یہ نام نہ رکھا جائے۔

”صنوان“ یہ ”صنو“ کی جمع ہے، اس کے معنی ایک جیسی، ہم مثل۔(تاج العروس (38 / 446،المعجم الوسيط (1 / 526 )۔ یہ بھی لڑکی کے ناموں کے لیے مستعمل نہیں ہے۔

لفظ ’’ابیحہ‘‘ کا صحیح تلفظ ’’ابیہہ‘‘ ہے یعنی آخر سے پہلے والا حرف ’ح‘ کے بجائے ’ہ‘ ہے اور آخری حرف بھی ’ہ‘ ہے، ’’ابیہہ‘‘ کے معنیٰ  سمجھ دار  کے ہیں۔ (القاموس الوحید ص: 106)، لڑکی کا  یہ نام رکھنا درست ہے۔

اکفہ : کا مادہ اَکَّفَ وآکَفَ اِیکَا فًا ، الحمار : گدھے پر پالان کسنا ۔ الاکاف : پالان بنانا، الاُکَاف ۔ پالان ج:اَکُف و آکِفَۃ، (مصباح اللغات) یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔

" آئرہ" یہ  نام تتبع اور تلاش کے بعد  نہ عربی لغت میں ملا اور نہ ہی فارسی لغت میں ملا، اگر عربی زبان میں اس کے حروفِ اصلیہ دیکھے جائیں تو بھی اس مادے سے کوئی مناسب معنٰی نہیں نکلتا؛  لہذا مذکورہ  نام رکھنا درست نہیں ہے ۔

بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام ان ناموں کے بجائے   صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک خواتین کے اسماء گرامی میں سے کوئی نام یا کوئی اچھا بامعنی نام رکھاجائے جو افضل ہونے کے ساتھ باعث برکت بھی ہے۔

ہماری ویب سائٹ کے سرور ورق پر اسلامی ناموں کے سیکشن میں حروف تہجی کی ترتیب سے لڑکوں اور لڑکیوں کے منتخب نام موجود ہیں، جنس اور حرف کا منتخب کرکے نام کا انتخاب کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں