بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

ساڑھے تین تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم


سوال

ساڑھے تین تولہ سونا پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے یا نہیں، اگر فرض ہے تو کتنی زکوٰۃ  بنتی ہے؟

جواب

ساڑھے تین  تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم یہ ہے کہ  اگر  مذکورہ مقدار سونے کے ساتھ نقد رقم (بنیادی ضرورت سے زائد)  یا چاندی یا مالِ تجارت میں سے کچھ ہے، اور سونے اور  رقم  یا چاندی یا مالِ تجارت کو  ملاکر  اس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت   سے زیادہ بنتی ہے، تو   سالانہ ڈھائی فیصد زکات اداکرنا لازم ہے، البتہ اگر  مذکورہ شخص کے پاس صرف ساڑھے تین تولہ سونا ہے، ساتھ میں نقدی، چاندی، یامالِ تجارت کچھ بھی نہیں ہے تو  مذکورہ شخص پر محض ساڑھے تین تولہ سونے کی وجہ سے زکوۃ  نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"وَلَوْ فَضَلَ مِنْ النِّصَابَيْنِ أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعَةِ مَثَاقِيلَ، وَأَقَلُّ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَإِنَّهُ تُضَمُّ إحْدَى الزِّيَادَتَيْنِ إلَى الْأُخْرَى حَتَّى يُتِمَّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا أَوْ أَرْبَعَةَ مَثَاقِيلَ ذَهَبًا كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ. وَلَوْ ضَمَّ أَحَدَ النِّصَابَيْنِ إلَى الْأُخْرَى حَتَّى يُؤَدِّيَ كُلَّهُ مِنْ الذَّهَبِ أَوْ مِنْ الْفِضَّةِ لَا بَأْسَ بِهِ لَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ التَّقْوِيمُ بِمَا هُوَ أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ قَدْرًا وَرَوَاجًا.

الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ فِي عُرُوضِ التِّجَارَةِ كَائِنَةً مَا كَانَتْ إذَا بَلَغَتْ قِيمَتُهَا نِصَابًا مِنْ الْوَرِقِ وَالذَّهَبِ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ."

(الفصل الاول والثانى فى زكوة الذهب والفضة والعروض، ج:1، ص:179، ط:ايج ايم سعيد) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209200953

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں