بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1442ھ- 30 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ساڑھے سات تولہ سے کم سونا اور چاندی کی انگوٹھی ملکیت میں ہونے کی صورت میں زکات کا حکم


سوال

ساڑھے سات تولے سے کم سونا ہے، چاندی فقط  ایک انگوٹھی ہے،  اور نیت یہ کی ہے کہ یہ چاندی کی انگوٹھی اپنی بھانجی کے لیے رکھی ہے، تو  کیا اس صورت میں زکاۃ لازم ہوسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ساڑھے سات تولہ سے کم مقدار کے سونے  اور چاندی کی انگوٹھی کی مالیت ملانے سے مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) تک پہنچ جاتی ہے تو آپ پر سال پورا ہونے کی صورت میں زکات واجب ہے، اگرچہ انگوٹھی مستقبل میں بھانجی کو دینے کی نیت ہی کیوں نہ ہو۔ صرف نیت کرنے سے ہبہ نہیں ہوتا، جب اسے انگوٹھی مالک بنا کر دے دیں گی تو وہ آپ کی ملکیت سے نکلے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200761

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں