بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سڑک بنانے کی وجہ سے مسجد کو شہید کرنے سے متعلق سوالات


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

ایک علاقے میں سرکار کی جانب سے سڑک کی توسیع کا عمل شروع ہے، اس طرح سے کہ پہلے سڑک دو طرفہ آمد و رفت کے   لیے استعمال ہوتی تھی گاڑیوں کےرش اور حادثات کی وجہ سے اب اس کو سرکار دو  رویہ بنا رہی ہے، اس طرح سےکہ پرانی سڑک کو اپنی  جگہ بحال رکھ کر اس سے متصل جگہ پرمشرق کی جانب توسیع ہورہی ہے، اور ان دونوں کے درمیان  کوئی چھوٹی دیوار یا آڑ لگا دی جائے گی،پھر دوطرفہ ٹریفک کے لیےاس کو استعمال کیا جا سکے گا، جیسے عام بڑی سڑکوں اور موٹرویز وغیرہ پر ہوتا ہے، یہ سڑک ایک قومی شاہراہ ہےجو دو بڑے شہروں کو ملاتی ہے۔

اب سٹرک کی توسیعی منصوبہ بندی میں آنے والی مساجد کے انہدام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ لبِ سڑک واقع ہیں ،سرکار کا کہنا ہے کہ جو جگہ سڑک کے 220 فٹ کے اندر ہو  وہ قانونی طور پر سڑک ہوتی ہے، اس میں سرکار کی اجازت کے بغیر مساجد کی تعمیر کی گئی ہیں،جب کہ بعض ایسی قدیم مساجد ہیں، جو پرانی سڑک کے بننے سے پہلے کی تعمیر شدہ ہیں،اور کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مسجد سے مقصود عبادت اور نمازہے،اگر مسجد کو  ایسی بڑی شاہراہ  کے درمیان چھوڑ دیا جائے تو اس مسجد میں کوئی نمازی نماز نہیں پڑھ سکے گا،اس طرح بھی ممکن نہیں ہے کہ جہاں مسجد آجائےتو اس جگہ سڑک کا رخ تبدیل کر لیاجائے،اس  لیے کہ صرف ایک مسجد کی خاطر اگر سڑک کومشرق کی بجائے مغرب کی طرف کرلیں  تو عین ممکن ہے کہ آگے مغربی جانب میں بھی کوئی مسجد ہو،کیوں کہ جا نبین میں آبادی ہونے کی وجہ سے مساجد واقع ہیں، اس  لیے لا محالہ ایک ہی طرف سے سڑک کی توسیع ممکن ہے۔مذکورہ تفصیل کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

1۔کیاسڑک کی توسیع کے  لیے مسجد کو شہید کیا جا سکتا ہے؟نیزاگرسرکار اس مسجد کے بدلے میں قریب میں ہی  دوسری مسجد بنادے تو کیا حکم ہے؟

2۔ان مساجد کو اگر چھوڑ دیا جائے اور روڈ کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے اگر یہ مساجد غیر آباد ہوجائیں تو کیا حکم ہے؟وبال کس پر ہوگا؟

3۔اگر سرکار نے قانون بنایا ہو کہ سڑک کے  220 فٹ حدود سڑک کے  لیے خاص ہیں اور ابھی یہ حکم کریں کہ جو مسجدیں مذکورہ حدود میں آرہی ہیں، انہیں شہید کیا جائے تو کیا اس سرکاری قانون کی وجہ سے مسجد وں کو شہید کرنا جائز ہے ؟اور اگر کوئی مسجد مذکورہ قانون سے پہلے بنی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

4۔کیا اس بارے میں سرکار کی اجازت یا عدم اجازت سے کوئی فرق پڑتا ہے،جب کہ مسجد کسی شخص نے اپنی ذاتی مملوکہ زمین سے وقف کرکے بنائی ہو؟

5۔کیا ایسی مجبوری کی صورت میں دوسرے مذاہب میں اگر مسجد کو شہید کرنے کی اجازت ہوتو ان کے مذاہب کے مطابق فتوی دے سکتے ہیں،اور کیاان کے مذہب پر عمل ہوسکتا ہے؟

6۔مساجد کو شہید کرناناجائز ہونے کے باوجود سرکار اگر ا ن کو  شہید کرنے کا ارادہ کریں ،تو مسلمانوں کا کیا فریضہ ہے؟ 

جواب

1۔واضح  رہے کہ جو جگہ مسجد کے لیے وقف ہوجائے ، وہ ہمیشہ کے  لیے وقف ہوجاتی ہے، اور زمین کے جس حصہ میں مسجدِ  شرعی تعمیر کردی جائے،  وہ  جگہ تا قیامت مسجد کے لیے مختص ہوجاتی ہے،  اس جگہ کو فروخت کرنا،اس کو شہید کرکےا س کی جگہ کو سڑک بنانا اور پھراس کے  متبادل  سرکار  یا کسی اور کا   دوسری جگہ  پر مسجد بنادینا  یاکسی دوسرے مصرف   میں مسجد  کی جگہ کو استعمال کرنا  شرعًا جائز نہیں ہے؛ لہذا توسیع کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ سڑک  کے لیے  کوئی اور  متبادل حل نکال کر اپنا نقشہ مسجد کے تابع بنائیں، مسجد کو  اپنے نقشہ کے تابع بنا کر اس کو منہدم کرکے شریعت کے خلاف مذموم کوشش نہ کریں۔

2۔علمائے شریعت اور فقہائے امت نے پوری وضاحت کے ساتھ یہ تصریح فرمادی ہے کہ اگر کہیں مسجد کے پڑوس کی آبادی اجڑ جائے ،مسجد کا کوئی نمازی نہ بھی رہے اور  مسجد غیر آباد ہوجائے یا وہ مسجد اہلِ  محلہ کے  لیے تنگ پڑ جائے اور پرانی مسجد کو کھلی اور وسیع جگہ منتقل کرنے کی ضرورت در پیش ہو یا مسجد کا کوئی پڑوسی مسجد کو اپنی ضرورت کے توسیعی  پروگرام میں شامل کرنا چاہے اور اس کے بدلے میں حسبِ  ضرورت دوسری وسیع جگہ کا بندوبست بھی کر رہا ہو  تب بھی مسجد  تا قیامت مسجد ہی رہے گی، اور ان مذکورہ مقاصد کی خاطر پرانی مسجد کو ڈھانے اور منہدم کرنے کا ناروا  اقدام کرنا، یہ کسی بھی مسلمان کے  لیے جائز نہیں ہے۔

نیز قریب میں آبادی ہونے کے باوجود قریبی آبادی کےلوگ  اس مسجد میں نماز نہ پڑھیں اور مسجد کوبالکل غیر آباد کردیں تو  ان آس پاس کے لوگوں پر مسجدکو معطل کرنےکا حکم لازم آئے گا اور مسجد کو ویران کرنے کا وبال بھی ان پر ہوگا،جو کہ انتہائی شنیع افعال میں سے ہے۔ اور مفسرینِ کرام اس بارے میں فرماتے ہیں  کہ اس طرح  کے افعال غیرمسلم کا شیوہ  ہے۔ 

3۔واضح رہے کہ اگر کوئی جگہ مصالحِ عامہ کے لیے  ہو،  یا وہ زمین حکومت کی ملکیت میں  ہو،اور  کوئی ایسی جگہ میں مسجد ِشرعی بنالے  اور   سرکار   کے علم میں  آجائے تو    وہ جگہ  تا قیامت مسجد  ہی رہے گی ، اور  اس کا حکم  زمین  غصب کرنے جیسا نہیں ہوگا، کیوں  کہ سرکار کی زمین  عام مسلمانوں کے مصالح کے  لیے ہوتی ہے اور  نماز سے بڑھ کر کسی کی کوئی ضرورت اور مصلحت نہیں  ہے، لہذا اس صورت  میں سرکار کو  مسجد شہید کرنےکی اجازت نہیں ہے،خاص کر جب سرکار ان چیزوں کی طرف بالکل بھی توجہ نہ دے رہی ہو، البتہ اگر ایسی جگہ کو غصب شدہ تسلیم کربھی لیا جائے تو زیادہ سےزیادہ   مسجد بنانے والے سرکار کو  اس جگہ کی جوقیمت بنتی ہو وہ  دیں گے،پھر بھی سرکار کو مسجد شہید کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ،جب سرکاری زمین پر بنائی گئی مسجدکو شہید کرنے کی اجازت نہیں ہےتو پھر کسی سرکاری قانون کی وجہ سے مسجد کو شہید کرنے کی اجازت بدرجہ اولی نہیں ہوگی ،خواہ  وہ مسجدکسی سرکاری قانون کےبنانے سے پہلے بنائی گئی ہو یاقانون کے بنانےکے بعد،بہرحال کسی بھی سرکاری قانون کی وجہ سےمسجد کو شہید کرناشرعًا ناجائز اور حرام ہوگا۔

4۔واقف کے لیے اپنی مملوکہ زمین وقف کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں  ہوتی،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص  اپنی ذاتی مملوکہ زمین کومسجد کے لیے  وقف کرکے اس میں مسجد بنالے ،تو ایسی صورت میں سرکار کی اجازت اور عدمِ اجازت سے اس میں کوئی فرق نہیں  پڑتا ہے،بلکہ وقف کرنے کی صورت میں اس مسجد کی مالکانہ نسبت حق تعالیٰ شانہ کی طرف ہوجاتی ہے،پھر  اس  مسجد میں واقف  کے لیے کسی قسم کا مالکانہ تصرف (تبادلہ وانتقال وغیرہ) کا حق نہیں رہتا، بلکہ زمین کاجو ٹکڑا شرعی مسجد قرار پائے وہ حصہ مسجد کے تعمیر ہونے کے وقت سے تا قیامت مسجد ہی کہلاتا ہے،اور مسجد کا یہ احاطہ مسجد کے علاوہ کسی اور مصرف میں قطعاً استعمال نہیں ہوسکتا  ہے۔

5۔واضح رہے کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی کے ہاں بھی مسجد کو شہید کرنے کی اجازت نہیں ہے،تمام ائمہ اس بات پر متفق ہے کہ مسجد کو توڑنا اور مسجد کی زمین کوبیچنا شرعًاناجائز  ہے۔

6۔قرآن وسنت کی رو سے کسی بھی شرعی مسجد کو شہید کرنا جائز نہیں ، اگر کسی ادارے یا فرد کی ناسمجھی اور غلط فہمی کی بنا  پر خدانخواستہ مملکتِ خدا داد  اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ضابطہ اسلام  و  نظریہ پاکستان کے خلاف  ایسے اقدام کی جسارت کی جائے  تو مسلمان حکومت کے ہر سرکاری وغیر سرکاری فرد کو اس کے خلاف احتجاج کا پورا پورا حق حاصل ہوگا  اور  شعارِ اسلام ( مسجد ) کا دفاع و تحفظ مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہوگا ، اگر کوئی مسلمان اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی کرتے ہو ئے کام آجائے تو  وہ شرعا شہید کہلائے گا اور مرتبہ شہادت پر فائز شمار ہوگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے شہیدوں کی فہرست میں وہ لوگ بھی گنوائے ہیں جو اپنی عزت و آبرو اور مال و متاع کا دفاع کرتے ہوئے مارے جائیں، تو جو شخص اپنے مذہبی و روحانی سرمایہ اور شعائر اسلام کے دفاع میں جان  دے دے، وہ بدرجہ اولی عند اللہ شہید کہلائے گا۔ 

1۔2۔قرآن مجید میں ہے:

"﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْهَا اسْمُهُ وَ سَعٰی فِیْ خَرَابِها ؕ اُولئك مَا کَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾"[البقرة:114]

"ترجمہ: اور اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو خدا تعالیٰ کی مسجدوں میں ان کا ذکر ( اور عبادت) کیے جانے سے بندش کرے اور ان کے ویران (ومعطل) ہونے (کے بارے) میں کوشش کرے ۔ ان لوگوں کو تو کبھی بےہیبت ہوکر ان میں قدم بھی نہ رکھنا چاہیے تھا، (بلکہ جب جاتے ہیبت اور ادب سے جاتے) ان لوگوں کو دنیا میں بھی رسوائی (نصیب) ہوگی اور ان کو آخرت میں بھی سزائے عظیم ہوگی ۔"  (بیان القرآن)

تفسیر قرطبی میں ہے:

"الثالثة- خراب المساجد قد يكون حقيقيا كتخريب بخت نصر والنصارى بيت المقدس ... فقتلوا و سبوا، و حرقوا التوراة، و قذفوا في بيت المقدس العذرة وخربوه. ويكون مجازا كمنع المشركين المسلمين حين صدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المسجد الحرام، وعلى الجملة فتعطيل المساجد عن الصلاة وإظهار شعائر الإسلام فيها خراب لها۔۔۔ولذلك قلنا: لا يجوز نقض المسجد ولا بيعه ولا تعطيله وإن خربت المحلة."

سورۃ البقرۃ،الآیۃ:114،ج:2،ص:78/77،ط:دار الكتب المصرية - القاهرة)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"شرع في ذم المشركين الذين أخرجوا الرسول صلى الله عليه وسلم وأصحابه من مكة، ومنعوهم من الصلاة في المسجد الحرام، وأما اعتماده على أن قريشا لم تسع في خراب الكعبة، فأي خراب أعظم مما فعلوا؟ أخرجوا عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه، واستحوذوا عليها بأصنامهم وأندادهم وشركهم، كما قال تعالى: وما لهم ألا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام وما كانوا أولياءه إن أولياؤه إلا المتقون ولكن أكثرهم لا يعلمون [الأنفال:[34]وقال تعالى: ما كان للمشركين أن يعمروا مساجد الله شاهدين على أنفسهم بالكفر أولئك حبطت أعمالهم وفي النار هم خالدون. إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة ولم يخش إلا الله فعسى أولئك أن يكونوا من المهتدين[التوبة: 17- 18]۔۔۔۔۔فقال تعالى: إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة ولم يخش إلا الله [التوبة: [18] ، فإذا كان من هو كذلك مطرودا منها مصدودا عنها، فأي خراب لها أعظم من ذلك؟ وليس المراد من عمارتها زخرفتها وإقامة صورتها فقط، إنما عمارتها بذكر الله فيها وإقامة شرعه فيها، ورفعها عن الدنس والشرك."

(سورۃ البقرۃ،الآیۃ:114،ج:1،ص:270،ط:دار الكتب العلمية، بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو خرب ما حوله واستغني عنه، يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة، (وبه يفتي) حاوي القدسی.وفي الرد : (قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا، وهو الفتوی، حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه، مجتبى، وهو الأوجه، فتح. اه. بحر."

(کتاب الوقف، مطلب فيما لوخرب المسجد أو غيرہ،ج:4، ص:358، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إن أرادوا أن يجعلوا شيئا من المسجد طريقا للمسلمين فقد قيل: ليس لهم ذلك وأنه صحيح، كذا في المحيط."

( كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الأول فيما يصير به مسجدا،ج:2،ص:457،ط:دار الفکر بیروت)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"وقف المسجد حين يتم يصير خالصاً لله تعالى، وأن المساجد لله، وخلوصه لله تعالى يقتضي عدم جواز الرجوع فيه."

(الفقه الاسلامی وادلته للزحیلی،باب الوقف، الفصل الثالث،‌‌موقف القانون من‌‌ الرجوع في وقف المسجد،ج:10،ص:7621، ط: دارالفکر)

وفیہ ایضا:

"ويجوز للإمام جعل الطريق مسجداً، لا عكسه، لجواز الصلاة في الطريق، ولا يجوز أن يتخذ المسجد طريقاً."

(الفقه الاسلامی وادلته للزحیلی،باب الوقف، الفصل الثامن، ‌‌جعل شيء من المسجد طريقاً وبالعكس،ج:10،ص:7675، ط:دار الفکر)

 کفایت المفتی میں ہے:

" جو جگہ ایک مرتبہ مسجد ہو جائے وہ ابدالآباد تک کے لیے مسجد ہو گئی، اس زمین سے کوئی کام علاوہ مسجد کے لینا جائز نہیں اور نہ اس کا معاوضہ لے کر اس کو سڑک میں دینا جائز ہے، مسجد خواہ ویران ہو یا آباد، دونوں حالتوں میں ایک ہی حکم رکھتی ہے، یہ کسی کو جائز نہیں کہ مسجد کا معاوضہ یا دوسری مسجد اس کے عوض لے کر مسجد کو سڑک میں دے دے۔"

(مسجد اور اس کی وقف اشیاء کو بیچنے کا بیان ،ج:10،ص:104،ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

  امداد الفتاوی میں ہے:

" مسجد میں بھی اور فناء مسجد (حصہ متعلقہ مسجد مثل وضوء خانہ وغیرہ) میں بھی دکانیں بناناجائز نہیں اور اسی سے ثابت ہو گیا کہ ممر ( گزر گاہ) بنانا بدرجہ اولیٰ ناجائز ہے۔"

(احکام المسجد،ج:2،ص:663،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

3۔فتح القدیر میں ہے:

"ولا يجوز مشاعا عند أبي يوسف، ولا يشترط التسليم إلى المتولي عند محمد أفرده بفصل على حدته وأخره. هذا ويمكن أن يجعل من ذلك أيضا ما لو اشترى أرضا شراء فاسدا وقبضها، ثم وقفها على الفقراء جاز وعليه قيمتها للفقراء، ولو اتخذها مسجدا قال الفقيه أبو جعفر: ذكر محمد في كتاب الشفعة أنه لو اشترى أرضا شراء فاسدا وبناها بناء المسجد جاز عند أبي حنيفة - رضي الله عنه - وعليه قيمتها للبائع وقول أبي يوسف ومحمد ينقض البناء وترد الأرض إلى البائع بفساد البيع.

قال: فاشتراط البناء له دليل على أن لا يكون مسجدا قبل البناء عند الكل. وذكر هلال أنه يصير مسجدا في قول أصحابنا فصار فيه روايتان. قال الفقيه أبو جعفر: في الوقف أيضا روايتان. والفرق على إحداهما عند هذا القائل أن في الوقف حق العباد كالبيع والهبة، وأما المسجد فخالص حق الله تعالى وما هو خبيث لا يصلح لله تعالى ولهذا قالوا: لو اشترى دارا لها شفيع فجعلها مسجدا كان للشفيع أن يأخذها بالشفعة، وكذا إذا كان للبائع حق الاسترداد كان له أن يبطل المسجد."

(فتح القدير، کتاب الوقف،فصل إذا بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه،ج:6،ص:233/232، دار الفكر بیروت)

4۔تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقال ابن جرير: حدثنا ابن حميد، حدثنا مهران، حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن محمود عن سعيد بن جبير،: {وأن المساجد لله}قال: قالت الجن لنبي الله صلى الله عليه وسلم: كيف لنا أن نأتي المسجد ونحن ناءون [عنك]  ؟، وكيف نشهد الصلاة ونحن ناءون عنك؟ فنزلت: {وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا} وقال سفيان، عن خصيف، عن عكرمة: نزلت في المساجد كلها"

(سورۃ البقرۃ،الآیۃ:18،ج:8،ص:256،ط:دار الكتب العلمية، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وأما شرائطه (فمنها العقل والبلوغ) فلا يصح الوقف من الصبي والمجنون كذا في البدائع۔۔۔(ومنها) الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا كذا في البحر الرائق رجل وقف أرضا لرجل آخر في بر سماه ثم ملك الأرض لم يجز وإن أجاز المالك جاز عندنا كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الوقف،الباب الأول في تعريف الوقف وركنه وسببه وحكمه وشرائطه۔۔۔،ج:2،ص:353/352،ط:دارالفکر بیروت)

فتح القدیر میں ہے:

"(قوله: وإذا كان الملك يزول عندهما يزول بالقول عند أبي يوسف وهو) قول الأئمة الثلاثة وقول أكثر أهل العلم  لأنه إسقاط الملك كالعتق.وعند محمد لا بد لزواله من التسليم إلى المتولي؛ لأن للواقف أن يجعله لله فيصير حقا له، وحقه إنما يثبت مسلما في ضمن التسليم للعبد، وهذا لأن الوقف تمليك لله تعالى ۔۔۔  فلذا كان قول ‌أبي يوسف أوجه عند المحققين. وفي المنية: الفتوى على قول ‌أبي يوسف وهذا قول مشايخ بلخ"

(کتاب الوقف،ج:6،ص:209/208،ط:دارالفکر بیروت)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے؛

"المادة (1192) - (كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال۔۔۔كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير. انظر المادة (1197)"

(الکتاب العاشر الشرکات،الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان۔۔،الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة۔۔ج:3،ص:201،ط:دارالجیل)

5۔أسهل المدارك شرح إرشاد السالك  میں ہے:

"ولا يجوز بيع المسجد وإن انتقلت العمارة عنه" يعني اختلف في بيع فرس يهرم. وتقدم الكلام فيه كما هو نص الرسالة وغيرها. أما المسجد فلا خلاف في عدم جواز بيعه، فلا يجوز بيع المسجد مطلقا سواء خرب أم لأن وإن انتقلت العمارة عن محله إجماعا. ومثل عدم جواز بيع المسجد نقضه فلا يجوز بيع نقض المسجد بمعنى أنقاضه كما تقدم ذلك."

(کتاب الوقف،ج:3،ص:104،ط:دار الفكر بيروت - لبنان)

المهذب في فقه الإمام الشافعي میں ہے:

"وإن وقف مسجدا فخرب المكان وانقطعت الصلاة فيه لم يعد إلى الملك ولم يجز له التصرف فيه ‌لأن ‌ما ‌زال ‌الملك ‌فيه ‌لحق ‌الله تعالى لا يعود إلى الملك بالاختلال كما لو أعتق عبدا ثم زمن وإن وقف نخلة فجفت أو بهيمة فزمنت أو جذوعا على مسجد فتكسرت ففيه وجهان: أحدهما لا يجوز بيعه لما ذكرناه في المسجد والثاني يجوز بيعه لأنه لا يرجى منفعته فكان بيعه أولى من تركه بخلاف المسجد فإن المسجد يمكن الصلاة فيه مع خرابه وقد يعمر الموضع فيصلى فيه فإن قلنا تباع كان الحكم في ثمنه حكم القيمة التي توجد من متلف الوقف وقد بيناه وإن وقف شيئا على ثغر فبطل الثغر كطرسوس أو على مسجد فاختل المكان حفظ الارتفاع ولا يصرف إلى غيره لجواز أن يرجع كما كان."

(کتاب الوقف،ج:2،ص:331،ط:دار الكتب العلمية)

منار السبيل میں ہے:

"لا يفسخ بإقاله ولا غيرها" لأنه عقد يقتضي التأبيد، سواء حكم به حاكم أو لا، أشبه العتق.

"ولا يوهب ولا يرهن ولا يورث ولا يباع" لقوله صلى الله عليه وسلم: "لا يباع أصلها ولا توهب ولا تورث" قال الترمذي: العمل على هذا الحديث عند أهل العلم، وإجماع الصحابة على ذلك، فيحرم بيعه ولا يصح."

(کتاب الوقف،فصل والوقف عقد لازم،ج:2،ص:18،ط:المكتب الإسلامي)

6۔تفسیر قرطبی میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔۔۔ وروينا عن جماعة من أهل العلم أنهم رأوا قتال اللصوص ودفعهم عن أنفسهم وأموالهم، هذا مذهب ابن عمر والحسن البصري وإبراهيم النخعي وقتادة ومالك والشافعي وأحمد وإسحاق والنعمان، وبهذا يقول عوام أهل العلم: إن للرجل أن يقاتل عن نفسه وأهله وماله إذا أريد ظلما."

(سورة المائدة،الآیۃ:33، ج:6،ص:157/156،ط: دار الكتب المصرية القاھرۃ)

صحیح مسلم میں ہے :

"عن أبي هريرة؛ قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال: يا رسول الله! أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي؟ ‌قال "‌فلا ‌تعطه ‌مالك" قال: أرأيت إن قاتلني؟ قال "قاتله" قال: أرأيت إن قتلني؟ قال "فأنت شهيد" قال: أرأيت إن قتلته؟ قال "هو في النار"."

(كتاب الايمان ، باب الدليل على أن من قصد أخذ مال غيره بغير حق كان القاصد۔۔۔الخ، ج:1،ص:124, ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي)

شرح النووی علی مسلم میں ہے :

"وأما ‌أحكام ‌الباب ‌ففيه ‌جواز ‌قتل ‌القاصد ‌لأخذ ‌المال ‌بغير ‌حق ‌سواء ‌كان ‌المال قليلا أو كثيرا لعموم الحديث وهذا قول الجماهير من العلماء وقال بعض أصحاب مالك لا يجوز قتله إذا طلب شيئا يسيرا كالثوب والطعام وهذا ليس بشيء والصواب ما قاله الجماهير وأما المدافعة عن الحريم فواجبة بلا خلاف وفي المدافعة عن النفس بالقتل خلاف في مذهبنا ومذهب غيرنا والمدافعة عن المال جائزة غير واجبة والله أعلم وأما قوله صلى الله عليه وسلم فلا تعطه فمعناه لا يلزمك أن تعطيه وليس المراد تحريم الإعطاء."

(كتاب الايمان،باب دليل على أن من قصد أخذ مال غيره بغير حق،ج:2،ص:165،ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511102041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں