بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شرح سود کے ساتھ قسطوں پر گھر خریدنے کاحکم


سوال

 میرے پاس آپ لوگوں کے فتویٰ مسئلہ کی نقل نہیں ہے، اور  یہاں ایسے لوگ ہیں جو آپ لوگوں کے فتویٰ کے مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں، میں صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا آپ نے ایسا کوئی فتویٰ جاری کیا ہے، یا کیا ہم ایسی شرائط اور حالات کے ساتھ کوئی جائیداد حاصل کر سکتے ہیں؟ اگر ہم ان شرائط و ضوابط کے ساتھ مکان نہیں خرید سکتے ہیں تو ہم کرائے کے مکان میں رہنا جاری رکھیں گے۔

 یہ سوال دراصل  ایک  تنقیح( فتوی نمبر 144502101896) کا جواب ہے ، سوال یہ ہے:

 بنیادی طور پر وزیرستان سے ہوں اور اس وقت لندن میں کرائے کے گھر میں مقیم ہوں، مکان کی قیمت بہت زیادہ ہے اور زیادہ تر لوگ وہاں مختصر مدت کے لیز کے معاہدوں پر گھر خریدتے ہیں، عام طور پر لیز کے انتظامات میں خریدار گھر کی شناخت کرتاہے پھر بینک سے اپنی طرف سے ادائیگی کرنے کو کہتاہے، اور گھر کے مالک کو پوری رقم مل جاتی ہے، اور خریدار 20 سے 40 سال کے معاہدے کی مدت پر منحصر قسط پر بینک کو رقم  اداہوگی، بینک نہ صرف اصل رقم بلکہ سود کا عنصر بھی چارٹ کرے گا، شرح سود مقرر نہیں ہے لیکن یہ بینک آف انگلینڈ کی شرح سود سے منسلک ہے، جیسا کہ میں نے سنا ہے، آپ لوگوں نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی رہائش کے مقاصد کے لیے ان شرائط و ضوابط کے ساتھ ایک گھر خرید سکتا ہے کیا اس مسئلے کا کوئی متبادل حل ہے، جیسا کہ بہت سے مسلم خاندانوں نے ان شرائط و ضوابط کے ساتھ خریدا ہے۔ جواب سائل نے مذکورہ سوال میں جس فتوے کا ذکر کیاہے اس فتوی کی نقل استفتاء کے ہمراہ ارسال کر دے، اس کے بعد ان شاء اللہ سوال کا جواب دے دیا جائے گا۔

جواب

 گھر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن  یہ ضرورت  کرایہ کے  مکان میں رہ کر بھی پوری  کی جاسکتی ہے، اور اپنے اخراجات محدود کرکے بچت بھی کی جاسکتی ہے، نیز اعتدال کے ساتھ شرعی حدود میں  رہ کر اپنی محنت کے ساتھ ساتھ  اللہ تعالیٰ  سے دعا کرکے آمدن میں اضافہ بھی ممکن ہے، لیکن  سود  پر قرض  (لون)  لینا  چاہے گھر کی خریداری کے لیے ہو یا تجارت کے لیے، چاہے بینک سے لیاجائے یا کسی اور ادارے سے،کسی طور پر جائز نہیں ہے۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں اگر سائل   کے پاس مکان خریدنے کے لیے اگر  اتنی رقم نہ ہو جس سے وہ مکان خرید سکے اور قسطوں پر خریدنے کی بھی کوئی جائز صورت نہ بن سکے اور غیرسودی قرض کا ملنا بھی ممکن نہ ہو تو بھی  سائل کے لیے سودی قرضہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی ، بلکہ سائل کو  چاہیے کہ  مکان خریدنے کے لیے رقم جمع کرنا شروع کر دے اور  جب تک رقم جمع نہ ہو جائے اُس وقت تک کرایہ کے مکان میں رہے، شرعی حدود میں رہ کر کفایت شعاری سے کام لے، پھر جب  پیسے  جمع ہو جائیں تو اُن پیسوں سے مکان خرید لے۔ہاں اگر کہیں سے غیر سودی قرض ملتا ہو تو رہائش کی ضرورت کے لیے بلاسود قرض لینا جائز ہے، تاہم جلد ادائیگی کی سعی کرنی چاہیے۔

نیز واضح رہے کہ ہمارے ادارے سے اس قسم کا کوئی فتویٰ جاری نہیں ہواہے جس میں بینک وغیرہ سے شرح سود   رکھ کر شرائط وقیود کےساتھ  قسط وار گھر خریدنے کے  جواز  کے متعلق  مسئلہ  بیان کیا گیاہو۔

قرآن کریم میں ہے:

{ أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} [البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]

ترجمہ: ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے، اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔‘‘

(بیان القرآن )

سود کے ایک درہم کو رسول اللہﷺ نے 36مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ قرار دیا ہے۔حدیث شریف میں ہے:

 "عن عبد اللّٰه بن حنظلة غسیل الملائکة أن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لَدرهمُ ربًا أشد عند اللّٰه تعالٰی من ست وثلاثین زنیةً في الخطیئة."

(مصنف ابن ابی شیبة، ج:12، ص:229، رقم الحدیث: 23405، ط: دار کنوز اشبیلیاء)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503101838

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں