بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سعودی سے چاند کی خبر اگر یقینی ذرائع سے پہنچے تو کیا اس کے مطابق روزہ رکھنا جائز ہوگا؟


سوال

 آج کل ایسے ذرائع موجود ہیں جس کا جھٹلانا تقریباً ناممکن ہے،  ایسے  میں اگر سعودی عرب سے رمضان المبارک کے چاند کی خبر پاکستان میں پہنچ جائے تو  پاکستان میں سعودی عرب  کے  ساتھ  روزہ  رکھ  سکتے ہیں؟  جیسے واٹس ایپ،  فیس بک،  اخبار؟   اگر خبر تواتر کو پہنچ جائے تو کیا سعودیہ کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب

اس مسئلہ کا تعلق  اختلاف ِمطالع  سے ہے، یعنی :چاند کے طلوع اور غروب  کے اوقات   اور جگہوں کے مختلف  ہونے  کے  ساتھ   ہے،  بنیادی طور پر  اس کا تعلق خبر  کےساتھ نہیں ہے،  نیز حکومتیں  اور ان کا دائرۂ اختیار بھی مختلف  ہے، اس لیے ایک حکومت کا اعلان دوسری حکومت کے لیے حجت نہیں ہے،  بالخصوص جب  کہ  دونوں جگہ  کا مطلع بالکل مختلف ہے، اس لیے ایک جگہ یقینی طور پر چاند کا نظر آجانا دوسری جگہ  والوں کے لیے حجت نہیں بنے گا، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا کہ ان کے غلام وغیرہ نے  شام  میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ  جمعے کے دن سے روزے شروع کیے اور جب وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے  تو اِن حضرات نے  ہفتے سے روزے شروع کیے تھے، ان کے غلام نے یقینی خبر دی کہ وہاں سب نے شبِ جمعہ کو چاند دیکھ کر رمضان کا آغاز کیا، لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نے شبِ ہفتہ میں ہی چاند دیکھا ہے، لہٰذا ہم ان کی رؤیت کا اعتبار نہیں کریں گے،  (اگرچہ اس وقت حکومت  بھی ایک ہی تھی، بلکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین تھے) اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"(و لا عبرة باختلاف المطالع ) وقيل: يعتبر، ومعناه: أنه إذا رأى الهلال أهل بلد ولم يره أهل بلدة أخرى يجب أن يصوموا برؤية أولئك كيفما كان على قول من قال: لا عبرة باختلاف المطالع، وعلى قول من اعتبره ينظر، فإن كان بينهما تقارب بحيث لا تختلف المطالع يجب وإن كان بحيث تختلف لا يجب، وأكثر المشايخ على أنه لا يعتبر حتى إذا صام أهل بلدة ثلاثين يوما وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوما يجب عليهم قضاء يوم.

والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار كما أن دخول الوقت وخروجه يختلف باختلاف الأقطار حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم منه أن تزول في المغرب وكذا طلوع الفجر وغروب الشمس بل كلما تحركت الشمس درجة فتلك طلوع فجر لقوم وطلوع شمس لآخرين وغروب لبعض ونصف ليل لغيرهم وروي أن أباموسى الضرير الفقيه صاحب المختصر قدم الإسكندرية فسئل عمن صعد على منارة الإسكندرية فيرى الشمس بزمان طويل بعدما غربت عندهم في البلد أيحل له أن يفطر فقال: لا، ويحل لأهل البلد ؛لأن كلا مخاطب بما عنده ،والدليل على اعتبار المطالع ما روي عن كريب: أن أم الفضل بعثته إلى معاوية بالشام فقال فقدمت الشام وقضيت حاجتها واستهل علي شهر رمضان وأنا بالشام فرأيت الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة في آخر الشهر فسألني عبد الله بن عباس، ثم ذكر الهلال، فقال: متى رأيتم الهلال؟ فقلت: رأيناه ليلة الجمعة، فقال: أنت رأيته، فقلت: نعم، ورآه الناس وصاموا وصام معاوية، فقال: لكنا رأيناه ليلة السبت فلانزال نصوم حتى نكمل ثلاثين أو نراه، فقلت: أولا نكتفي برؤية معاوية وصيامه؟ فقال: لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم.

(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: كتاب الصوم (1/ 321)،ط.دار الكتب الإسلامي، سنة النشر 1313هـ.،مكان النشر القاهرة)

فقط، والله اعلم


فتوی نمبر : 144209202071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں