بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ثناء کے بعد اعوذ باللہ اور بسم اللہ نہیں پڑھی


سوال

1۔  کیا نماز میں ثنا کے بعد اعوذ باللہ اور  بسم اللہ پڑھنی چاہیے؟

2۔ کیا نہ  پڑھنے سے نماز میں کوئی فرق پڑتا ہے؟

جواب

1۔ ثناء کے بعد  اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(سُنَنُهَا) رَفْعُ الْيَدَيْنِ لِلتَّحْرِيمَةِ، وَنَشْرُ أَصَابِعِهِ، وَجَهْرُ الْإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ، وَالثَّنَاءُ، وَالتَّعَوُّذُ، وَالتَّسْمِيَةُ، وَالتَّأْمِينُ سِرًّا". (الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي سُنَنِ الصَّلَاةِ وَآدَابِهَا وَكَيْفِيَّتِهَا، ١ / ٧٢، ط: دار الفكر)

2۔ ثناء کے بعد تعوذ و تسمیہ اگر نہیں پڑھی تو اس صورت میں بھی نماز ہوجائے گی، سجدہ سہو یا نماز کا اعادہ لازم نہ ہوگا، اگر بھولے سے رہ گئی ہے تو امید ہے کہ ثواب میں کمی نہیں ہوگی، البتہ جان کر چھوڑدی یا چھوڑنے کی عادت بنالی تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوگی؛ لہٰذا اسے چھوڑنے کی عادت نہیں بنانی چاہیے، نیز قصداً نہیں چھوڑنا چاہیے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَفِي الْوَلْوَالِجِيَّة: الْأَصْلُ فِي هَذَا أَنَّ الْمَتْرُوكَ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ: فَرْضٌ وَسُنَّةٌ وَوَاجِبٌ، فَفِي الْأَوَّلِ أَمْكَنَهُ التَّدَارُكُ بِالْقَضَاءِ يَقْضِي وَإِلَّا فَسَدَتْ صَلَاتُهُ، وَفِي الثَّانِي لَاتَفْسُدُ؛ لِأَنَّ قِيَامَهَا بِأَرْكَانِهَا وَقَدْ وُجِدَتْ وَلَايُجْبَرُ بِسَجْدَتَيْ السَّهْوِ، وَفِي الثَّالِثِ إنْ تَرَكَ سَاهِيًا يُجْبَرُ بِسَجْدَتَيْ السَّهْوِ، وَإِنْ تَرَكَ عَامِدًا لَا، كَذَا التَّتَارْخَانِيَّة. وَظَاهِرُ كَلَامِ الْجَمِّ الْغَفِيرِ أَنَّهُ لَايَجِبُ السُّجُودُ فِي الْعَمْدِ وَإِنَّمَا تَجِبُ الْإِعَادَةُ جَبْرًا لِنُقْصَانِهِ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.

وَلَايَجِبُ السُّجُودُ إلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ أَوْ تَأْخِيرِهِ أَوْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ أَوْ تَقْدِيمِهِ أَوْ تَكْرَارِهِ أَوْ تَغْيِيرِ وَاجِبٍ بِأَنْ يَجْهَرَ فِيمَا يُخَافَتُ، وَفِي الْحَقِيقَةِ وُجُوبُهُ بِشَيْءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ تَرْكُ الْوَاجِبِ، كَذَا فِي الْكَافِي. وَلَايَجِبُ بِتَرْكِ التَّعَوُّذِ وَالْبَسْمَلَةِ فِي الْأُولَى وَالثَّنَاءِ وَتَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالَاتِ إلَّا فِي تَكْبِيرَةِ رُكُوعِ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِيد".  (الْبَابُ الثَّانِي عَشَرَ فِي سُجُودِ السَّهْوِ، ١ / ١٢٦، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107201066

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے