بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سمندر کے کنارے پر اگر نجاست گر جائے، تو کیا وہ ناپاک ہوجائے گا؟


سوال

کراچی میں کیماڑی اور ڈاکیارڈ کے مقام پر سمندر کاپانی کالاہے، تو کیایہ پانی ناپاک شمار ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سمندر کےکنارےمیں جس مقام پر پانی  کالا ہے، اگر وہ کسی ناپاکی کی وجہ سےکالانہیں مثلاً پیٹرول یا آئل کی وجہ سےیاپھر مٹی کے کالاہونے کی وجہ سےپانی کارنگ کالاہے، سِیوریج(گٹر) کے ناپاک پانی کی وجہ سے اس کارنگ کالانہیں ہوا، تو یہ پانی ناپاک شمار نہیں ہوگا، البتہ  اگر پانی کی طبیعت(پانی کا پتلاپن اور پانی کابہاؤ)تبدیل ہوجائے، تو ایسے پانی سے وضواور غسل نہیں ہوگا، لیکن اگر مذكوره جگہ كاپانی کسی ناپاکی کی وجہ سےکالاہےمثلاًگٹرکاپانی وہاں آگیااور ٹہر گیااور اس جگہ نجاست کااثریعنی رنگ، بو ،یامزہ  ظاہر ہوگیا، یعنی ان تین اوصاف میں سے ایک وصف بھی تبدیل ہوگیا، تو یہ پانی ناپاک شمار ہوگا،ورنہ نہیں، لہذا سائل نوعیت کو دیکھ لے۔

البحر الرائق میں ہے:

"وحاصله أن الماء الجاري وما هو في حكمه إذا وقعت فيه نجاسة إن ظهر أثرها لا يجوز الوضوء به، وإلا جاز؛ لأن وجود الأثر دليل وجود النجاسة".

(كتاب الطهارة، أحكام المياه، ج:1، ص:88، ط: دارالكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌وبتغير ‌أحد ‌أوصافه) من لون أو طعم أو ريح (ينجس) الكثير ولو جاريا إجماعا"

(كتاب الطهارة، باب أحكام المياه، ج:1، ص:185، ط: سعيد)

الفقہ الاسلامی میں ہے:

""وتجوز الطهارة بماء خالطه شيء طاهر، فغيَّر أحد أوصافه، كماء السيل (المَدّ) والماء الذي يختلط به الأشنان والصابون والزعفران، ما دام باقياً على رقته وسيلانه، لأن اسم الماء باق فيه، ولا يمكن الاحتراز عن هذه الأشياء التي تختلط بالماء، كالتراب والأوراق والأشجار، فإن صار الطين غالباً، وماء الصابون أو الأشنان ثخيناً، وماء الزعفران صبْغاً، لا تجوز به الطهارة."

(‌‌الباب الأول: الطهارات، ‌‌الفصل الأول: الطهارة، ج:1، ص:244، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144510101710

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں