بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سامان تجارت میں پورا اسٹاک کے محتاط اندازے سے قیمت لگانے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:

1۔ میں لنڈے کا کام کرتا ہوں ، جس میں ہم کنٹینر  مال لے کر اس کو الگ الگ کرتے ہیں ، مثلا  کلو  کا مال الگ، عدد  کے اعتبار سے بیچنے والا مال الگ کرتے ہیں،  اب سوال یہ ہے کہ ان تمام  انواع کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے،  اب میں ان کی زکوۃ کو قیمت خرید کے اعتبار سے ادا کروں گا،  یا قیمت فروخت کے اعتبار سے،  اگر قیمت فروخت ہو تو جس دن زکوۃ کا وقت پورا ہو ، اس دن کی قیمت کے اعتبار ہوگا یا پھر اس کی کیا صورت ہوگی ؟

2۔اس طرح بعض انواع میں سے ایک قسم کا مال ہم ایک جگہ جمع کرتے ہیں جس میں سے 10 قسم کا مال ہوتا ہے جس کو ہم اپنے طور سے مثلا 30 یا 20 روپے کے اعتبار سے حساب لگاتے ہیں،  جب کہ اس میں بعض چیزیں ہم اس سے مہنگی یا سستی بیچ دیتے ہیں،   بس آسانی کے لیے ہم اس طرح کرتے ہیں ، کیوں کہ سب کو الگ الگ کرنا یہ مشکل ہوتا ہے،  ہمارے لیے اب سوال یہ ہے کہ اس کی ادائیگی زکوۃ کس طرح کریں؟ ہر ایک چیز کی الگ قیمت لگا کر ادائیگی زکوۃ کریں جو کہ مشکل ہے،  کیوں کہ ہزاروں کی تعداد میں ہوتی ہے ، جس میں ہمیں مشقت ہے اس صورت میں یا پھر کیا کریں ؟

3۔بعض دفعہ ہم گودام میں پڑے ہوئے مال کو اندازے کے طور پر حساب لگا لیتے ہیں کہ یہ ایک لاکھ کا مال ہے اور ہم اس کو  ڈیڑھ یا دو لاکھ شمار کرتے ہیں،  جو کہ اس سے زیادہ ہوتا ہے،  صرف مشقت سے بچنے کے لیے کیوں کہ ہمیں اس کا وزن کرنا ہے ، عددکے اعتبار سے شمار کرنا مشکل ہوتا ہے،  اس سے بچنے کے لیے ہم یہ عمل کرتے  ہیں۔ یہ کرنا صحیح ہے  ہمارے لیے یا نہیں ؟

4۔بعض دفعہ مال سٹاک ہو جاتا ہے مثلا آگے سے آرڈر  آنا بند ہو جاتا ہے،  پھر ہم اسے رکھتے ہیں کہ جس میں کلو کا مال بھی ہوتا ہے اور  عدد کے اعتبار سے بیچنے والا مال بھی ، اس کی زکات کی  ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟ جس وقت زکوۃ کا وقت پورا ہو اس وقت  یہ مال جس قیمت پر ہوگا اس کا حساب لگائیں،  یا پھر قیمتِ  فروخت، جس  وقت یہ فروخت ہو گا؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ جو اشیاء کلو کے اعتبار سے فروخت کی جاتی ہیں ان کی زکوۃ اسی اعتبار سے  ادا کرلیا کریں اور جو عدد کے اعتبار سے فروخت ہوتی ہے ، ان کی زکات اسی حساب سے ادا کی جائے، اور جس دن زکوۃ نکالی جائے گی اس دن مارکیٹ میں جو قیمت فروخت ہوگی اس سے  ہی زکوۃ نکالی جائے گی اور اگر ہر چیز کا حساب کرنا مشکل ہے اور اندازہ سے نکالنا ہے تو اندازہ سے کچھ زائد بھی زکوۃ ادا کریں تاکہ زکوۃ کم نہ ہو ۔

2۔اس قسم کا بھی تمام اسٹاک  محتاط اندازے سےبلکہ اس سے کچھ زیادہ قیمت فروخت لگا کر اس حساب سے زکات ادا کرتا رہے۔

3۔مذکورہ بالا عمل درست ہے کہ اندازے سے لگائی ہوئی قیمت سے زیادہ شمار کرکے اس حساب سے زکات نکالی جائے۔

4۔اس صورت میں بھی پورے اسٹاک کی زکات نکالتے وقت جو  قیمت فروخت ہو اسی  کا اعتبار ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"قوله: وفي ‌عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) معطوف على قوله أول الباب في مائتي درهم أي يجب ربع العشر في ‌عروض التجارة إذا بلغت نصابا من أحدهما."

(كتاب الزكوة، ، باب زکاۃ المال، ج:2، ص:245، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی  میں ہے؛

'(وجاز دفع القیمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق)، وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعاً، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح...وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون ‌متفقا عليه عنده وعندها."

(كتاب الزكوة، ، باب زکاۃ الغنم، ج:2، ص:286، ط:سعید)

فتح القدير للكمال ابن الهمام   میں ہے:

"قول أبي حنيفة فيه: إنه ‌تعتبر ‌القيمة ‌يوم ‌الوجوب وعندهما يوم الأداء، والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين وله ولاية منعها إلى القيمة فتعتبر يوم المنع كما في منع الوديعة وولد المغصوب، وعنده الواجب أحدهما ابتداء، ولذا يجبر المصدق على قبولها فيستند إلى وقت ثبوت الخيار وهو وقت الوجوب. ولو كان النصاب مكيلا أو موزونا أو معدودا كان له أن يدفع ربع عشر عينه في الغلاء والرخص اتفاقا، فإن أحب إعطاء القيمة جرى الخلاف حينئذ."

 (كتاب الزكوة،باب زكاة المال،  ‌‌فصل في العروض، ج:2، ص:219، ط:دار الفكر، لبنان)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101572

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں