بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سال بعد عقیقہ کا دوسرا بکرا ذبح کرنا


سوال

 ایک صاحب استطاعت کے باوجود کسی وجہ سے لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں ایک بکرا ذبح کرتے ہیں،  کچھ دنوں بعد  دوسرا بکرا عقیقہ میں ذبح کروانا چاہتے ہیں تو کیا پانچ چھ ماہ یا ایک دو سال  بعد دوسرے بکرے کا عقیقہ کرنا درست ہے؟ اور اس طرح کرنے سے عقیقہ میں افضلیت کا درجہ حاصل ہو جائے گا؟ اس طرح کرنا بہتر ہے یا نہیں؟

جواب

لڑکے  کی ولادت پر اگر استطاعت ہوتو (ہر ایک لڑکے  کی طرف سے ) دوبکرے یا بکریاں ذبح کرنامستحب ہے۔  اور اگر دو کی وسعت نہ ہوتوایک کاذبح کرنابھی کافی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بہتر تو یہ تھا کہ مذکورہ شخص دونوں بکرے ایک ساتھ  ساتویں یا چودہویں دن ذبح کردیتاتاہم جب اس نے ایک بکرا ذبح کیا تو بھی عقیقہ ہوگیا، اب دوسرا کرنا چاہیں تو یہ دوسرا بھی ذبح کرلیں۔ (کفایت المفتی 8/242)

'' بچہ کی عمر ایک سال سے زائد ہوجائے تب بھی عقیقہ کرسکتے ہیں''۔ (بہشتی زیور ۳؍۴۲-۴۳)

"العقیقة عن الغلام وعن الجاریة، وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضیافة الناس وحلق شعره مباحة لا سنة ولا واجبة، کذا في وجیز الکردري."

(الفتاویٰ الهندیة ، الباب الثاني والعشرون في تسمیة الأولاد ۵؍۳۶۲ رشیدیه)

"عن الحسن البصري: إذا لم یُعقّ عنك، فعقِّ عن نفسك وإن کنت رجلاً."

(إعلاء السنن، کتاب الذبائح ، باب أفضلیة ذبح الشاة في العقیقة ۱۷؍۱۲۱ إدارة القرآن کراچی)

'' فنقل الرافعي أنه یدخل وقتها بالولادة … ثم قال: والاختیار أن لا تؤخر عن البلوغ، فإن أخرت عن البلوغ سقطت عمن کان یرید أن یعق عنه، لکن إن أراد أن یعق عن نفسه فعل."

(فتح الباري، کتاب العقیقة ، باب إماتة الأذی عن الصبي في العقیقة، ۹؍۵۹۴-۵۹۵ دار المعرفة بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200832

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں