بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سخت مجبوری میں کاروبار کے لیے سود لینے کا حکم


سوال

اگر اپنے کاروبار کے لیے بہت ہی سخت مجبوری کی حالت میں، جب کہ آپ کے اپنے ہی ساتھ نہ دیں، تو پھر سود لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے، لہٰذا سودی قرض لینا جائز نہیں  ہے۔ تاہم شدید مجبوری  کی صورت میں سودی قرض لینے کی اجازت دی ہے، معمولی مجبوری میں یہ گنجائش نہیں ہے، اس لیے  شدید مجبوری کے بغیر بینک سے  یا کسی اور فرد یا ادارے سے سودی قرض  لینا شرعًا جائز نہیں ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر گزارے کی کوئی  بھی صورت موجود ہو، تو سودی قرضہ لینا حرام ہوگا، اس لیے مجبوری کی صورت واضح کرکے اس کا حکم دریافت کرلیجیے۔

باقی  ضرورت کے لیے  کسی رشتہ دار یا شناسا شخص سے قرض لیا جاسکتا ہے، اور اگر کوئی بندوبست نہ ہو تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے قناعت کرنا چاہیے؛ کیوں کہ قرض لینے کے بعد اس قرض کی ادائیگی کا بھی تو انتظام کرنا ہوگا، اس وقت جیسے محنت کرکے حلال رقم سے ادائیگی کا انتظام کیا جائے گا، ابھی سے ویسی ہی کوشش کرلی جائے تاکہ سودی قرض لینے کی نوبت ہی نہ آئے، اور اگر بعد میں ادائیگی میں حلال کا اہتمام نہ ہو تو یہ گناہ در گناہ ہوجائے گا، کہیں اس سے زیادہ پریشانی نہ ہوجائے، اور سودی قرضہ اتارنے کے لیے  پھر سودی قرضے لینے کا سلسلہ   نہ کرنا   پڑجائے، نیز  آدمی  اگر حرام سے بچنے  کے لیے ہمت بلند رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے، اور اللہ تعالی ایسی جگہ سے بندوبست فرماتے ہیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا} [الطلاق: 2، 3]

ترجمہ:" اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مصائب سے نکلنے کی راہ بنا دیتے ہیں اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتے ہیں جہاں اُس کا گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسہ کرلیتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتاہے، اللہ تعالی اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے، اللہ تعالی نے ہر شے کا انداز مقرر کر رکھا ہے۔"

حدیث مبارک میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: ‌لعن ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء . رواه مسلم."

(صحيح المسلم،  کتاب المساقات، ٣/ ١٢١٩، ط: دار احیاء التراث۔ مشكاة المصابيح،   كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الأول، ٢/ ٨٥٥، ط: المكتب الإسلامي)

"ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے، سود کھلانے والے، اور سود کے معاملے کو لکھنے والے اور اس میں گواہ بننے والے پر اور فرمایا: یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔"

      مشكاة المصابيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءا أيسرها أن ینکح الرجل أمه».

(كتاب البيوع، باب الربا، ٢/ ٨٥٩، ط: المكتب الاسلامي)

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: سود (میں) ستر گناہ ہیں، سب سے ہلکا گناہ ایسے ہے جیسے مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔"

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا."

(كتاب الحوالة، باب كل قرض جر منفعة، ١٤/ ٥١٣، ط:  ادارۃ القرآن)

البحر الرائق میں ہے:

"وفي القنية من الكراهية: لا بأس بالبيوع التي يفعلها الناس للتحرز عن الربا ثم رقم آخر هي مكروهة ذكر البقالي الكراهة عن محمد، وعندهما لا بأس به، قال الزرنجري خلاف محمد في العقد بعد القرض أما إذا باع ثم دفع الدراهم لا بأس بالاتفاق. اهـ. وفي القنية من الكراهية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اهـ."

(کتاب البیع، باب الربوا، ٦/ ١٣٧، ط:دار الکتاب الاسلامی)

      الاشباہ والنظائر میں ہے:

""السادسة: الحاجة تنزل منزلة الضرورة، عامةً كانت أو خاصةً ... وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى)."

(الفن الاول، القاعدة الخامسة، ص: ٩٣، ط:قدیمی)

غمز عیون البصائر میں ہے:

"قوله: يجوز للمحتاج ‌الاستقراض ‌بالربح، وذلك نحو أن يقترض عشرة دنانير مثلا، ويجعل لربها شيئا معلوما في كل يوم ربحا."

(الفن الأول، النوع الأول، القاعدۃ الخامسة، ١/ ٢٩٤، ط:دار الکتب العلمية)

کفایت المفتی میں ہے:

’’سود پر روپیہ قرض لینا جائز نہیں الا یہ کہ اضطراری حالت ہوجائے۔"

(کتاب الربوٰ،  ٨/ ١٠٦، دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں