بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سجدے میں کتنی دفعہ نبی ﷺ کا معمول ہے / تین سے زائد مرتبہ تسبیح پڑھنا مستحب ہے


سوال

ایک سجدے میں میں زیادہ سے زیادہ کتنی دفعہ تسبیح پڑھ سکتا ہوں ،نبی کریم صلی اللہ علیہ  وسلم کا کیا معمول تھا ؟میں 11 دفعہ ایک سجدہ میں تسبیح پڑھتا ہوں خلافِ سنت تو نہیں ہے؟

جواب

رکوع اور سجدے میں  تین  بار  تسبیح پڑھنے سے مسنون تسبیح ادا  ہو جاتی ہے،یہ تسبیحات کی  کم سے کم مقدار  ہے،تین سے کم مرتبہ پڑھنے کو فقہاء کرام نے مکروہ تنزیہی  لکھا ہے اور تین کے عدد سے  زیادہ  مثلاًپانچ مرتبہ پڑھنا یہ اوسط درجہ ہے او رسات مرتبہ   پڑھنا  یہ کامل درجہ  ہے،اور  اس سے  زیادہ    بھی اگر کوئی پڑھنا چاہتا ہے تو اس کا   پڑھنابھی مستحب ہےلیکن عدد طاق ہونا چاہئے ۔ 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضور ﷺ  رکوع میں تین مرتبہ "سبحان ربی العظيم"  پڑھا کرتے تھے اور سجدے میں تین مرتبہ" سبحا ن ربي الأعلى" پڑھاکرتے تھے،اس روایت سے معلوم ہوتاہے کہ عام طور پر  جب حضورﷺ فرض نمازوں میں   امام ہوتےتو     ایک سجدے میں تین مرتبہ "سبحان ربي الأعلى"پڑھا کرتے تھے،البتہ نوافل   میں نبی کریم ﷺ کا رکوع اور سجدہ اتنا لمباہوتا تھا کہ  ان کی مقدار  قیام کے قریب قریب  ہوتی ،اس لیے کہ تسبیحات کے ساتھ ساتھ دعائیں بھی  پڑھتے تھے۔لہذا تمام نمازوں میں نبی کریم ﷺ کا ایک معمول متعین کرنا  متعذر ہے ۔

سائل کا ایک سجدہ میں گیارہ دفعہ تسبیح پڑھنا یہ ایک انفرادی ذاتی  مستحب عمل ہے ۔

شرح سنن أبي داود میں ہے: 

"ورُوي عن أبي بكر أنه عليه السلام كان يقول في ركوعه: " سبحان ربي العظيم ثلاثا، وفي سجوده: سبحان ربي الأعلى ثلاثاً" رواه بكار بن عبد العزيز، عن أبيه، عن أبي بكر رضي الله عنه."

(باب: ما يقول الرجل في ركوعه وسجوده ، ج : 4 ، ص : 76 ، ط : مكتبة الرشد)

فتاوى ہندیہ  میں ہے : 

"ويقول في ركوعه: سبحان ربي العظيم ثلاثا وذلك أدناه فلو ترك التسبيح أصلا أو أتى به مرة واحدة يجوز ويكره فإذا اطمأن راكعا"۔۔۔۔(وسجد) . كذا في الهداية ويكبر في حالة الخرور ويقول في سجوده سبحان ربي الأعلى ثلاثا وذلك أدناه. كذا في المحيط ويستحب أن يزيد على الثلاث في الركوع والسجود بعد أن يختم بالوتر. كذا في الهداية فالأدنى فيهما ثلاث مرات والأوسط خمس مرات وإلا كمل سبع مرات. كذا في الزاد وإن كان إماما لا يزيد على وجه يمل القوم۔"

(الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها ،ج : 1 ، ص : 74،75، ط : دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے :

(ويسبح فيه) وأقله (ثلاثا) فلو تركه أو نقصه كره تنزيها....الدر ...."والحاصل أن في تثليث التسبيح في الركوع والسجود ثلاثة أقوال عندنا، أرجحها من حيث الدليل الوجوب تخريجا على القواعد المذهبية، فينبغي اعتماده كما اعتمد ابن الهمام ومن تبعه رواية وجوب القومة والجلسة والطمأنينة فيهما كما مر. وأما من حيث الرواية فالأرجح السنية لأنها المصرح بها في مشاهير الكتب، وصرحوا بأنه يكره أن ينقص عن الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماما فلا يطول۔"

(باب صفة الصلاة ، ج : 1 ،ص : 494 ، ط :دار الفکر )

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح  میں ہے:

"يسن "تسبيحه" أي الركوع "ثلاثا" لقول النبي صلى الله عليه وسلم: "إذا ركع أحدكم فليقل ثلاث مرات سبحان ربي العظيم وذلك أدناه وإذا سجد فليقل سبحان ربي الأعلى ثلاث مرات وذلك أدناه" أي أدنى كماله المعنوي وهو الجمع المحصل للسنة لا اللغوي والأمر للاستحباب فيكره أن ينقص منها ولو رفع الإمام قبل إتمام المقتدي ثلاثا فالصحيح أنه يتابعه ولا يزيد الإمام2 على وجه يمل به القوم وكلما زاد المنفرد فهو أفضل بعد الختم على وتر۔"

 ‌‌(أحكام الصلاة، فصل في سننها ، ص :99 ، ط :المكتبة العصرية)

فقط واللہ واعلم


فتوی نمبر : 144510101040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں