بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کن صورتوں میں واجب ہوتا ہے؟


سوال

سجدہ سہو کن صورتوں میں واجب ہوتا ہے؟

جواب

مذکورہ صورتوں سجدہ سہوہ  واجب ہوتا ہے،  اگر کسی شخص سے بھول کر نماز میں کوئی واجب چھوٹ جائے، یا نماز کے واجبات اور فرائض میں سے کسی واجب یا فرض کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے،  یاکسی فرض کو پہلے ادا کردے (یعنی ارکان کی ترتیب بدل دے، جو کہ واجب ہے) یا تکرار کے ساتھ اداکرے یاکسی واجب کو تبدیل کردے  ان صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہوجاتاہے۔  سجدہ سہو کی ادائیگی سے اس نقصان کی تلافی ہوجاتی ہے۔

اور سجدہ سہو  واجب ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کو ادا کرنا ضروری ہوتا ہے،  اگر  نماز میں سجدہ سہو واجب ہوجائے اور اس کو نہیں کیا تو ایسی نماز کا وقت کے اندر اعادہ واجب ہوتا ہے۔

البتہ  عیدین  اور جمعہ وغیرہ  کی نماز میں   مجمع  زیادہ ہو  جس کی وجہ سے سجدۂ سہو کرنے سے انتشار ہونے اور لوگوں  کی نماز خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو سجدۂ سہو ساقط ہوجاتا ہے اور اس کا نہ کرنا بہتر ہوتا ہے،  اور حرج کی وجہ سے اعادہ بھی معاف ہوجاتا ہے، اور اگر مقتدیوں کی تشویش کا غالب گمان نہیں ہے، مثلاً جماعت مختصر ہے کہ سب کو سجدۂ سہو کا علم ہوجائے گا اور تشویش بھی نہ ہوگی تو اس صورت میں کوئی واجب سہواً ترک ہوجائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي الولوالجية: الأصل في هذا أن المتروك ثلاثة أنواع: فرض وسنة وواجب، ففي الأول أمكنه التدارك بالقضاء يقضي وإلا فسدت صلاته، وفي الثاني لاتفسد؛ لأن قيامها بأركانها وقد وجدت، ولايجبر بسجدتي السهو، وفي الثالث: إن ترك ساهيًا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدًا لا، كذا التتارخانية. وظاهر كلام الجم الغفير أنه لايجب السجود في العمد، وإنما تجب الإعادة جبرًا لنقصانه، كذا في البحر الرائق". (4/101)

وفیه أیضاً:

"ولايجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت، وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي". (4/102)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 92):

"(والسهو في صلاة العيد والجمعة والمكتوبة والتطوع سواء) والمختار عند المتأخرين عدمه في الأوليين لدفع الفتنة كما في جمعة البحر، وأقره المصنف، وبه جزم في الدرر.
(قوله: عدمه في الأوليين) الظاهر أن الجمع الكثير فيما سواهما كذلك كما بحثه بعضهم ط وكذا بحثه الرحمتي، وقال خصوصا في زماننا. وفي جمعة حاشية أبي السعود عن العزمية أنه ليس المراد عدم جوازه، بل الأولى تركه لئلا يقع الناس في فتنة. اهـ.
(قوله: وبه جزم في الدرر) لكنه قيده محشيها الواني بما إذا حضر جمع كثير، وإلا فلا داعي إلى الترك ".

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144203201522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں