بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سجدہ میں جاتے وقت اعضاء رکھنے کی ترتیب


سوال

نماز کے دوران سجدہ کرنے کے لیے جاتے ہوئے پہلے ہاتھ زمین پر رکھنے چاہیے یا  گھٹنے؟

جواب

سجدہ کرنے کا  صحيح  طریقہ یہ ہے کہ سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے  گھٹنوں کو زمین پر رکھا جائے، پھر ہاتھ، پھر ناک اور آخر میں پیشانی زمین پر رکھی جائے، اور جب سجدے سے اٹھیں تو پھر اس کے برعکس عمل کریں، یعنی سب سے پہلے پیشانی زمین سے اٹھائی جائے، پھر ناک، پھر ہاتھ اور آخر میں  گھٹنے اٹھائے جائیں۔

حدیث شریف میں ہے :

"عن وائل بن حجر، قال: رأيت النبى صلى الله عليه وسلم إذا ‌سجد ‌وضع ‌ركبتيه قبل يديه، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه."

(سنن ابی داؤد،باب کیف یضع  رکبتیہ قبل یدیہ ،ج:2،ص:129،دارالرسالۃ العالمیۃ)

ترجمہ:حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب وہ سجدہ کرتے تھے  تو اپنے ہاتھوں سے پہلے  گھٹنے رکھتے تھے ، اور جب سجدہ سے اٹھتے تھے تو گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے۔

الکاشف عن حقائق السنن  میں ہے :

"ذهب أكثر أهل العلم أن الأحب للساجد أن يضع ركبتيه، ثم يديه؛ لما رواه وائل بن حجر. وقال مالك، والأوزاعي رضي الله عنهما بعكسه لهذا الحديث، والأول أثبت عند أرباب النقل. وقد قيل: حديث أبي هريرة رضي الله عنه منسوخ؛ لما روى عن مصعب بن سعد أنه قال: كنا نضع اليدين قبل الركبتين، فأمرنا بالركبتين قبل اليدين. فلولا كان حديث أبي هريرة سابقاص علي ذلك لزم النسخ مرتين، وأنه علي خلاف الدليل."

(باب السجود وفضلہ ،ج:3،ص:1029،مکتبۃ نزار مصطفی الباز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102894

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں